رام سیتو تنازعہ، استعفیٰ کی پیشکش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں ثفاقت کی مرکزی وزیر امبیکا سونی نے اس حکومتی موقف پر پیدا ہونے والے تنازعے میں اپنے کردار پر استعفے کی پیشکش کی ہے جس میں یہ کہا گیا تھا کہ ہندو مذہب کے خداؤں کا کوئی تاریخی وجود ثابت نہیں ہے۔ امیبکا سونی نے سنیچر کو کہا کہ وزیراعظم منموہن سنگھ کے کہنے پر وہ استعفیٰ دینے کے لئے تیار ہیں۔ اس تنازعے میں امبیکا سونی کے کردار پر حالیہ دنوں میں شدید تنقید کی گئی ہے۔ جمعہ کو ہندوستان کی حکومت کو وہ متنازعہ حلف نامہ سپریم کورٹ سے واپس لینا پڑا تھا جس سے بقول بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما لعل کرشن اڈوانی کے ہندوؤں کی توہین ہوئی ہے۔ نیا حلف نامہ پیش کرنے کے لیے حکومت نے تین مہینے کا وقت مانگا ہے۔ عدالت نے اس کی منظوری دیتے ہوئے اس مقدمے کی سماعت اگلے برس جنوری میں طے کی ہے۔ حکومت ’سیتو سمندرم‘ نامی ایک پراجیکٹ کے تحت بھارت اور سری لنکا کے درمیان بحری جہازوں کے آنے جانے کے لیے ایک راستہ بنا رہی ہے۔ اس پراجیکٹ کے پورا ہونے کے بعد بھارت کے جنوبی ساحلی علاقوں میں مشرق سے مغرب تک جانے کے لئے سری لنکا کا پورا چکر لگانے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔
سنیچر کو امبیکا سونی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا کے دور اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے جنہوں نے سپریم کورٹ میں داخل کیے جانے والے حلف نامے تیار کیے تھے اور ان میں کہا گیا تھا کہ ہندو مذہب کی مقدس کتاب راماین کے کرداروں اور واقعات کا تاریخی وجود ثابت نہیں ہے۔ حکومتِ ہند کا کہنا ہے کہ اس پراجیکٹ سے سفر کا کافی وقت بچ جائےگا اور تجارت میں بھی اضافہ ہوگا۔ لیکن اس مقصد کے لئے ان سمندری چٹانوں کو کاٹنا پڑے گا جنہیں ہندوؤں کی تنظیمیں مذہبی اہمیت کی حامل تصور کرتی ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ رام سیتوکے آس پاس کام پر عائد پابندی جاری رہے گی۔ عدالت نے کوئی نئی پابندی عائد نہیں کی ہے۔ یہ تنازعہ اس وقت کھڑا ہوا جب بدھ کو سپریم کورٹ میں داخل کرائے جانے والے حلف نامے میں کہا گیا تھا کہ’ایڈمز برج‘ یا رام سیتو کے نام سے مشہور سمندر میں چٹانوں کے سلسلے کے بارے میں ایسے کوئی سائسنی یا آثاریاتی ثبوت حاصل نہيں ہوئے جس سے یہ کہا جائے کہ یہ وہ پل ہے جسے ہندوؤں کے بھگوان رام نے اپنی فوج کی مدد سے بنوایا تھا۔
بی جے پی کے رہنما لعل کرشن اڈوانی نے اس معاملے پر وزیراعظم منموہن سنگھ اور حکمواں یو پی اے کی صدر سونیا گاندھی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔اس دوران مبصرین کے مطابق حکمراں کانگریس کو آہستہ آہستہ سمجھ ميں آنے لگا کہ ان کا یہ قدم شاید ان کے سیاسی مفاد میں نہیں ہوگا۔ انہیں پہلوؤں پر غور کرکے یوپی اے کی صدر سونیا گاندھی نے مداخلت کی اور حکومت سے فوری طور پر اپنا موقف واضح کرنے کو کہا۔ اس کے بعد حکومت نے واضح کیا ہے کہ یہ عقیدت کا معاملہ ہے اور عقیدت پر بحث نہیں کی جا سکتی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کے سامنے موجودہ حالات میں اس کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہ تھا کیونکہ خود اس کی اتحادی بائيں بازو کی جماعتیں ہند امریکہ جوہری معاہدے کے سبب حکومت سے ناراض ہیں اور تقریبا سبھی سیاسی حلقوں کو یقین ہے کہ اس برس کی آخر تک بائيں بازو کی جماعتیں اپنی حمایت واپس لے لیں گی۔ ایسے میں ماہرین کے مطابق حکمراں کانگریس حزب اختلاف کو ایسا کوئی ایشو نہيں فراہم کرنا چاہتی جس کی مدد سے وہ آئندہ عام انتخابات میں سیاسی فائدہ اٹھا سکيں کیونکہ بی جے پی اور رام کے نام کی سیاست کا پرانا رشتہ ہے اور رام کے نام پر ہی وہ پہلی مرتبہ اقتدار میں آئی تھی۔ | اسی بارے میں سمندری منصوبے کے خلاف احتجاج 12 September, 2007 | انڈیا ہیم لتاحافظ قرآن بننے کی کوشش19 June, 2007 | انڈیا قاتل لڑکے کومندر میں سیوا کی سزا02 June, 2007 | انڈیا یورپ میں سواستک کا تنازعہ 17 January, 2007 | انڈیا الہ آباد میں کمبھ میلے کا آغاز03 January, 2007 | انڈیا مذہبی رہنما اور سات ساتھی قتل11 February, 2006 | انڈیا شنکراچاریہ کیس: اہم ملزم گرفتار20 December, 2004 | انڈیا اندور میں ہندو مسلم کشیدگی13 February, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||