یورپ میں سواستک کا تنازعہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یورپ کی ہندو تنظیموں نے اپنی مذہبی علامت ’سواستک‘ پر پابندی عائد کیے جانےکی تجویز کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ جرمنی نے یورپ میں ہولوکاسٹ کی مخالفت اور نازیوں کے نشان ’سواستک‘ کےاظہار کو مجرمانہ کاروائی قرار دینے کی ایک تجویز پیش کی ہے۔ برطانیہ میں ہندو فورم کے رمیش کلاڈیا نے کہا ہے کہ نازیوں کے اپنانے سے پہلے سواستک کا نشان صدیوں سے امن و سلامتی کی علامت رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پر پابندی سے ہندؤں کے خلاف امتیازی سلوک برتا جائےگا۔ مسٹر کلاڈیانے بتایا کہ ان کی تنظیم اس بارے میں یورپی یونین کے قانون سازوں کو خط لکھ کر اپنے موقف سے آگاہ کرے گی۔ ہالینڈ، بیلجیم اور اٹلی کی ہندو تنظیمیں بھی سواستک کے نشان پر مجوزہ پابندی کے خلاف مہم میں شامل ہیں۔ رمیش کلاڈیا کا کہنا ہے’ گزشتہ پانچ ہزار برسوں سے’سواستک‘ امن و سلامتی کی علامت کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے لیکن ہٹلر نے اسے اس کی بالکل متضاد شکل میں استعمال کیا تھا۔‘ ان کا کہنا تھا کہ نازیوں نے جس مقصد کے لیے سواستک کو استعمال کیا اس کی مذمت ہونی چاہئے اور ہندو مذہب نے جس طرح اسے امن کے لیے اپنایا اسے سراہا جانا چاہئے۔ ’اگر ہٹلر نے اس نشان کو غلط طریقے سے پیش کیا، ایک ظالمانہ اقتدار اور نسلی امتیاز کے لیے استعمال کیا تو اس کا یہ مطلب نہیں ہونا چاہئے کہ اس کے پر امن مقاصد پر بھی پابندی عائد کر دی جائے۔‘ جرمنی میں سواستک کی علامت پر پہلے ہی سے پابندی عائد ہے۔ اس سے قبل دو ہزار پانچ میں بھی پورے یورپ میں اس پر پابندی عائد کرنے کی بات کہی گئی تھی لیکن برطانیہ سمیت کئی حکومتوں کی مخالفت کے سبب اس پر عمل نہیں ہوسکا تھا۔ لیکن فی الوقت یورپی یونین کی صدارت جرمنی کے پاس ہے اور وہ اس پر پابندی عائد کرنے کی پوری کوشش کرے گا۔ | اسی بارے میں برطانیہ میں ہندؤں کے مندر16 June, 2005 | آس پاس لبنان میں بھگوان23 August, 2006 | آس پاس پاکستانی ہندو، بھارتی شہریت01 March, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||