پاکستانی ہندو، بھارتی شہریت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی حکومت نے ان پاکستانی ہندوؤں کو شہریت دینے کا فیصلہ کیا ہے جو پانچ سال سے زائد عرصے سے ہندوستان میں رہ رہے ہیں۔ ایک اہم فیصلے میں مرکزی حکومت نے کہا ہے کہ سرحدی ریاستوں میں ضلعی مجسٹریٹ کو یہ حق ہوگا کہ وہ ایسے پاکستانی ہندوؤں کو شہریت دینے کا فیصلہ کریں۔ مرکزی حکومت کے اس فیصلے کا اعلان سرحدی ریاست راجستھان کے دارالحکومت جے پور میں پیر کو کیا گیا۔ پاکستانی ہندو نیشنل آرگنائزیشن نامی تنظیم کے صدر ہندو سِنگھ سودھا نے اپنے ردعمل میں بتایا کہ حکومت کے اس فیصلے سے کئی ہزار ہندوؤں کو فائدہ ہوگا جو ریاست راجستھان میں آباد ہیں۔ ہندو سِنگھ سودھا کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم کئی برسوں سے حکومت سے اس فیصلے کا مطالبہ کررہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہندو پاکستان سے صحیح کاغذات پر ہندوستان آئے اور واپس جانے سے انکار کردیا کیونکہ انہیں مذہبی بنیاد پر تعصب کا خدشہ تھا۔ ہندو سنگھ سودھا کا کہنا تھا کہ حکومت کے اس فیصلے سے ان لوگوں کو بھی فائدہ ہوگا جو پاکستان سے آنے کے بعد سرحدی ریاست گجرات میں آباد ہیں۔ ریاست راجستھان کی حکومت نے پاکستان سے آکر بسنے والے ہندوؤں کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے یہ کمیٹی قائم کی تھی۔ اس کمیٹی کے مطابق راجستھان میں اس وقت پاکستان سے آنیوالے چھ ہزار ہندو آباد ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||