اندور میں ہندو مسلم کشیدگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں ہندو مسلم فسادات کے بعد شہر کے بعض علاقوں میں کر فیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ کشیدگی کے پیش نظر سکول اور کالجز بھی بند کر دیئے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق پیر کو مبینہ طور پر ایک ہندو عورت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے ایک واقعے کے بعد فریقین کے درمیان تشدد بھڑک اٹھا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اندور کے کربلا میدان کے ایک چبوترے پر مورتی لگائے جانے کے بعد سے علاقے میں کشیدگی ہے۔ کربلا کے میدان میں روایتی طور پر تعزیے دفن کیے جاتے رہے ہیں لیکن ہندو تنظیم بجرنگ دل اس میدان پر اب ایک مندر بنانا چاہتی ہے۔ ریاست میں بی جے پی کی حکومت ہے۔ ریاست کے گورنر نے بھی موجودہ حالات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تشدد کے دوران فریقین کے درمیان پتھراؤ ہوا جبکہ آتش زنی کے ایک
پولیس نے مشتعل ہجوم کو منتشر کر نے کے لیے ہوائی فائرنگ کی اور آنسو گیس کے گولے فائر کیے۔ تاہم ان واقعات میں اب تک کسی کی ہلاکت کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ حالات پر قابو پانے کے لیے بھوپال سے فساد شکن ریپیڈ ایکشن فورس بلائی تشدد کے واقعات کے بعد شہر کے سات علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیاگيا تھا لیکن منگل کی صبح چار علاقوں سے کرفیو ہٹا لیا گیا ہے۔ مدھیہ پردیش میں بی بی سی کے نامہ نگار فیصل محمد علی کا کہنا ہے کہ گزشتہ کچھ دنوں سے اندور میں دونوں فرقوں کے درمیان تشدد کے واقعات ہوتے رہے ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ میں مدھیہ پردیش کے جبل پور، مندسور اور بیاورا میں فرقہ وارانہ کشیدگی کے پیش نظر کرفیو نافذ کرنا پڑا تھا۔ | اسی بارے میں بڑودہ فسادات اور ہندو مسلم تفریق09 May, 2006 | انڈیا گجرات: فسادات میں دو ہلاک26 July, 2004 | انڈیا گجرات کے فسادات نے ہروایا: واجپئی12 June, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||