BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 March, 2007, 09:40 GMT 14:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ریزرویشن‘ پر تمل ناڈو میں ہڑتال

 سپریم کورٹ
سپریم کورٹ نے پسماندہ طبقہ کو 27 فیصد ریزرویشن دینے کے حکومتی فیصلے پر پابندی کا حکم دیا تھا
ہندوستان میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ’ریزرویشن‘ کے معاملے پر ریاست تمل ناڈو کی حکمران جماعت ڈی ایم کے کی اپیل پر ایک روزہ ہڑتال کی وجہ سے ریاست میں کاروبارِ زندگی معطل ہے۔

چند روز قبل سپریم کورٹ نے اعلی تعلیمی اداروں میں پسماندہ ذاتوں کے لیے ستائیس فیصد نشستیں مخصوص کرنے کے حکومتی فیصلہ پر پابندی لگا دی تھی اور سرکاری تعلیمی اداروں کو حکومت کے فیصلے پر آئندہ تعلیمی سال تک عمل نہ کرنے کے احکامات دیے تھے۔

دیگر جماعتوں نے بھی اس ہڑتال کی حمایت کی ہے۔ ریاست میں بیشتر تجارتی مراکز، نجی و سرکاری ادارے اور بسیں بند ہیں تاہم ٹیلی فون، پانی کے محکموں سمیت ریاست کے ہسپتال کھلے ہیں۔ ہڑتال کی وجہ سے حکومت نے سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔

تمل ناڈو کی حکمراں جماعت ڈی ایم کے مرکز میں حکمراں یو پی اے محاذ کا حصہ ہے۔ ڈی ایم کے نے اس مسئلے پر حکومت سے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ریاست میں بیشتر تجارتی مراکز، نجی و سرکاری ادارے بند ہیں

پارٹی کے صدر اور ریاست کے وزیراعلیٰ ایم کرونا ندھی نے اس مسئلے پر
وزیراعظم کو ایک بھی خط لکھا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ یہ ہڑتال سپریم کورٹ کے فیصلے خلاف نہیں کی جا رہی ہے بلکہ پسماندہ طبقے کے حقوق کے
کی آواز اٹھانے کے لیے کی گئی ہے۔

ان کی پارٹی کا کہنا ہے: ’عدالت کے فیصلے سے پسماندہ طبقے کو سماجی اور تعلیم طور پر بہتر بنانے کے پروگرامز متاثر ہوں گے۔ اس حکم سے پارلیمنٹ کے حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں، اس لیے پارلیمان کا اجلاس فوری طور پر اجلاس بلایا جائے‘۔

مرکزی حکومت نے اعلیٰ سرکاری تعلیمی اداروں میں پسماندہ طبقے کے لیے ستائیس فیصد سیٹیں مخصوص کر دی ہیں۔ اس پر عمل اس برس سے ہونا تھا لیکن سپریم کورٹ نے ایک درخواست کی سماعت کے بعد کہا ہے کہ حکومت کو اس پر عمل کرنے سے قبل پسماندہ طبقے کے نئے اعداد و شمار جمع کرنے چاہیں۔

ملک میں میں پسماندہ ذاتوں کی رائے شماری سن انیس سو اکتیس میں کی گئی تھی اور اسی کی بنیاد پر حکومت نے ریزرویشن دینے کا اعلان کیا تھا۔

دلت خواتینریزرویشن بِل
نچلی ذاتوں کے مخصوص کوٹے کی منظوری
ریزرویشن کی بحث
’ہندوستان میں 70 فیصد مسلمان پسماندہ‘
نتیش کی مشکل
کوٹہ پر بہار کے وزیراعلیٰ کی مشکل
دلتکوٹے کی سیاست
پسماندہ افراد کے لیئے کوٹہ پر تنازعہ
اسی بارے میں
ریزرویشن کی سیاست
16 May, 2006 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد