’ریزرویشن‘ پر تمل ناڈو میں ہڑتال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ’ریزرویشن‘ کے معاملے پر ریاست تمل ناڈو کی حکمران جماعت ڈی ایم کے کی اپیل پر ایک روزہ ہڑتال کی وجہ سے ریاست میں کاروبارِ زندگی معطل ہے۔ چند روز قبل سپریم کورٹ نے اعلی تعلیمی اداروں میں پسماندہ ذاتوں کے لیے ستائیس فیصد نشستیں مخصوص کرنے کے حکومتی فیصلہ پر پابندی لگا دی تھی اور سرکاری تعلیمی اداروں کو حکومت کے فیصلے پر آئندہ تعلیمی سال تک عمل نہ کرنے کے احکامات دیے تھے۔ دیگر جماعتوں نے بھی اس ہڑتال کی حمایت کی ہے۔ ریاست میں بیشتر تجارتی مراکز، نجی و سرکاری ادارے اور بسیں بند ہیں تاہم ٹیلی فون، پانی کے محکموں سمیت ریاست کے ہسپتال کھلے ہیں۔ ہڑتال کی وجہ سے حکومت نے سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں۔ تمل ناڈو کی حکمراں جماعت ڈی ایم کے مرکز میں حکمراں یو پی اے محاذ کا حصہ ہے۔ ڈی ایم کے نے اس مسئلے پر حکومت سے پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس بلانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔
پارٹی کے صدر اور ریاست کے وزیراعلیٰ ایم کرونا ندھی نے اس مسئلے پر وزیراعظم کو ایک بھی خط لکھا ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ یہ ہڑتال سپریم کورٹ کے فیصلے خلاف نہیں کی جا رہی ہے بلکہ پسماندہ طبقے کے حقوق کے کی آواز اٹھانے کے لیے کی گئی ہے۔ ان کی پارٹی کا کہنا ہے: ’عدالت کے فیصلے سے پسماندہ طبقے کو سماجی اور تعلیم طور پر بہتر بنانے کے پروگرامز متاثر ہوں گے۔ اس حکم سے پارلیمنٹ کے حقوق بھی متاثر ہوتے ہیں، اس لیے پارلیمان کا اجلاس فوری طور پر اجلاس بلایا جائے‘۔ مرکزی حکومت نے اعلیٰ سرکاری تعلیمی اداروں میں پسماندہ طبقے کے لیے ستائیس فیصد سیٹیں مخصوص کر دی ہیں۔ اس پر عمل اس برس سے ہونا تھا لیکن سپریم کورٹ نے ایک درخواست کی سماعت کے بعد کہا ہے کہ حکومت کو اس پر عمل کرنے سے قبل پسماندہ طبقے کے نئے اعداد و شمار جمع کرنے چاہیں۔ ملک میں میں پسماندہ ذاتوں کی رائے شماری سن انیس سو اکتیس میں کی گئی تھی اور اسی کی بنیاد پر حکومت نے ریزرویشن دینے کا اعلان کیا تھا۔ |
اسی بارے میں پسماندہ ذات، ریزرویشن پر روک29 March, 2007 | انڈیا ریزرویشن بِل لوک سبھا میں منظور14 December, 2006 | انڈیا ’ریزرویشن کی فراہم کئی اسباب پر‘03 December, 2006 | انڈیا ریزرویشن کی سیاست16 May, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||