’ریزرویشن کی فراہم کئی اسباب پر‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے انسانی وسائل کے فروغ کے مرکزي وزیر ارجن سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت کا موجودہ آئین مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں دیتا بلکہ سماجی اور معاشی طور سے پسماندہ طبقوں کو رزیرویشن فراہم کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اسی بنیاد پر حکومت مسلمانوں کو بھی ریزرویشن دینے پر غور کر رہی ہے۔ بی بی سی اردو ڈاٹ کام کے ساتھ ایک خصوصی بات چیت میں مرکزي وزیر نے کہا کہ مسلمانوں کے حالات بہتر بنانے کے لئے بہت سے اقدام کئے جا رہے ہيں لیکن ابھی بہت کچھ کرنا با قی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مسلمانوں کے حالات کے تمام پہلوؤں پرغور کے لئے وزیر مملکت علی اشرف فاطمی کی قیادت میں ایک اعلی سطح کی کمیٹی تشکیل دی گی ہے جو آئندہ سال جنوری تک اپنی رپورٹ پیش کر دے گی ۔مسٹر سنگھ نے بتایا کہ رپورٹ آنے کے بعد ہی آئندہ کی کاروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ ارجن سنگھ کے خیال میں مسلمانوں کی ترقی کے لئے گزشتہ ساٹھ برسوں میں جو اقدامات ہونے چاہئیں تھے وہ نیہں کئے گئے ہیں۔’اس میں کس کی غلطی زیادہ ہے اور کس کی کم یہ ایک سیاسی بحث ہے اور یہ بحث ہمیشہ جاری رہے گی۔اصل معاملہ یہ ہے کہ موجودہ حالات مزید خراب نہیں ہونے چاہئیں۔‘ مسٹر سنگھ نے یہ بھی بتایا کہ آئندہ پانچ برسوں کے لیے تیار کئے گئے گیارہویں منصوبے (فائو ایئر پلان) میں مدرسوں کے بنیادی کردار کو برقرار رکھتے ہوئے اس میں جدید مضامین جیسے سائنس اور حساب کو شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی اور اس سلسلے میں سبھی مدارس کے سربراہوں سے بات چیت کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس منصوبے کے تحت ان علاقوں میں پرائمری سکول کھولے جائيں گے جہاں دلتوں اور اقلیتوں کی آبادی زیادہ ہے۔ | اسی بارے میں ریزرویشن کی سیاست16 May, 2006 | انڈیا ہندوستان: مسلمانوں کے لئے ریزرویشن؟03 December, 2006 | انڈیا پسماندگی کوٹہ: حکومت سے جواب طلبی29 May, 2006 | انڈیا سپریم کورٹ کے حکم پر ہڑتال ختم31 May, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||