BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 September, 2007, 10:45 GMT 15:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
رام سیتو انتخابی معاملہ: بی جے پی
اجلاس کے دوران بی جے پی رہنما ایل کے اڈوانی، راج ناتھ اور جسونت سنگھ
ہندوستان میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے کہا ہے کہ اگر پارلیمانی انتخاب وقت سے پہلے ہوتے ہیں تو وہ رام کے نام کے ساتھ کی گئی توہین، ملک کی سلامتی اور مہنگائی جیسے دیگر معاملات کے ساتھ انتخابی مہم شروع کرے گی۔

پارٹی کے ترجمان پرکاش جاوڑیکر نے یہ بات ریاست مدھیہ پردیش کے شہر بھوپال میں جاری پارٹی کی تین روزہ نیشنل ایگزیکیٹو کے اجلاس کے دوران بی بی سی سے انٹرویو کے دوران کہی۔

حکومت کے ’سیتو سمندرم پراجکٹ‘ سے متعلق حکومت کے متنازعہ حلف نامے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ’رام کے نام پر لوگوں کے جذبات کی توہین کی گئی ہے اور بی جے پی اس موضوع کو عوام کے درمیان لے کر جائے گی۔‘

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ان کی پارٹی رام سیتو پر سیاست کرنا نہیں چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ حکمراں محاذ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عام آدمی کے نام پر اقتدار میں آنے والی حکومت نے عوام کے ساتھ ہی دھوکہ کیا ہے اور مہنگائی جیسے کئی بڑے مسئلے پیدا کیے ہیں۔

بی جے پی کے سامنے انتخابی معاملے
 تین روزہ اجلاس میں رام سیتو کا معاملہ، ایوان زیریں یعنی لوک سبھا اور بعض ریاستوں میں ہونے والے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں پارٹی کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔ اس وقت پارٹی میں سب سے بڑا مسئلہ آئندہ عام انتخابات میں وزیرا‏عظم کے عہدے کے لیے امیدوار طے کرنا ہے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’حکومت جب غریب طبقے کی بات کرتی ہے تو صرف مسلمانوں کی ہی بات کرتی ہے ہندوؤں کے غریب طبقے کی بات نہیں کرتی ہے۔‘

جمعہ سے شروع ہونے والے اس اجلاس میں پارٹی کے سبھی بڑے اور سینیئر رہنما بھوپال میں موجود ہيں لیکن سابق وزيراعظم اٹل بہاری واجپئی اپنی صحت کے سبب شرکت نہیں کرسکے۔

واجپئی نے ایک خط کے ذریعے پارٹی کے نام اپنا پیغام ضرور بھیجا ہے۔ اس خط سے کئی سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ مسٹر واجپئی نے پارٹی کے نام چار لائنز کی ایک نظم بھی بھیجی ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے اپنی ایک رباعی میں مسٹر واجپئی نے پارٹی میں اندرونی تنازعات اور اگلے وزیرا‏عظم کے امیدوار جیسے کئی دیگر چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے پارٹی کارکنوں کو تیار رہنے کو کہا ہے۔

اس تین روزہ اجلاس میں رام سیتو کے معاملے کے علاوہ، ایوان زیریں یعنی لوک سبھا اور بعض ریاستوں میں ہونے والے ریاستی اسمبلی کے انتخابات میں پارٹی کی حکمت عملی پر غور کیا جائے گا۔ اس وقت پارٹی میں سب سے بڑا مسئلہ آئندہ عام انتخابات میں وزیرا‏عظم کے عہدے کے لیے امیدوار طے کرنا ہے۔

بگڑتی ہوئی ساکھ
بی جے پی یا بھارتیہ جنتا ’پرابلم‘ پارٹی
بال ٹھاکرےممبئی، سینا کاقبضہ
بلدیاتی انتخابات میں شیوسینا کی کامیابی
واجپئی اور اڈوانیبی جے پی کنونشن
اب نئے پارٹی صدر کے لیے جوڑ توڑ شروع ہو گیا ہے
کانگریس کے حمایتی’فیل گڈ‘ کانگریس
بی جے پی کو دھچکے، کانگریس کی خوشی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد