کوہ پیماؤں کا وفد سیاچن کے لیے روانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان نے سیاچن گلیشیئر پر کوہ پیمائی اور مہم جوئی کے لیے تین عام شہریوں سمیت بیالیس افراد کو جانے کی اجازت دے دی ہے۔ بدھ کے روز یہ افراد طے شدہ پروگرام کے تحت اپنی مہم کے لیے روانہ ہوگئے ہیں۔ لفٹیننٹ کرنل اے کے ماتھر نے بی بی سی کو بتایا ہےکہ کوہ پیما نئی آب و ہوا سے مانوس ہوتے ہوئے گیارہ ہزار فٹ اونچے گلیشیئر پر جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کوہ پیماؤں کا پہلا گروپ منگل کو کشمیر کے شہر لداخ پہنچ گيا تھا اور بدھ کو اس کے آگے کے مقام کھارو کے لیے روانہ ہوگيا ہے۔ سیاچن گلیشیئر پر ہندوستانی شہریوں کا یہ وفد پاکستان کے سخت اعتراضات کے باوجود ہو رہا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ سیاچن ایک متنازعہ مقام ہے، اس لیے یہاں سیاحت کی اجازت نہيں دی جاسکتی۔ پاکستان نے خبردار کیا تھا کہ ہندوستان کےاس قدم سے دونوں ملکوں کے درمیان جاری امن مذاکرات کے عمل کو دھچکا پہنچ سکتا ہے۔ تاہم ہندوستان نے پاکستان کے اس احتجاج کو مسترد کر دیا ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سیاچن کی برف پوش پہاڑیاں دنیا کا سب سے اونچا محاذ جنگ ہے۔ پچھلے دو عشروں سے دونوں ملکوں کے فوجیوں کے درمیان کشیدگی کے سبب وہاں جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔ اس وفد میں جو تین سویلین کوہ پیما حصہ لے رہے ہيں ان کا تعلق ریاست مہاراشٹر سے ہے۔ کرنل ماتھر کے مطابق یہ عام شہری ہيں اور اس سے پہلے بھی وہ کوہ پیمائی میں حصہ لے چکے ہيں۔ کوہ پیمائی میں حصہ لینے والوں میں نیشل کیڈیٹ کور یعنی این سی سی، راشٹریہ انڈین ملٹری کالج، ملٹری سکول چائل (شملہ) اور ہندوستانی افواج کے افراد شامل ہيں۔ اس وفد میں میڈیا کہ بعض لوگ بھی شامل ہيں لیکن انہيں صرف بیس کمیپ تک جانے کی اجازت ہوگی، جبکہ کوہ پیما سولہ ہزار فٹ کی اونچی چوٹی سر کریں گے۔ خیال کیا جاتا ہےکہ کوہ پیمائی کے لیے عام شہریوں کی سیاچن گلیشيئر تک رسائی کے سبب ملک میں سیاحت کو بڑھاوا ملےگا۔ یہ کوہ پیمائی اس لیے ممکن ہوسکی ہے کیونکہ دونوں ملکوں کے درمیان گزشتہ چار برسوں سے فائر بندی ہے اور اس پہلے پاکستان بھی سیاچن کی کوہ پیمائی کر چکا ہے۔ ماہرین کے خیال میں بظاہر یہ فیصلہ ہندوستان نے دنیا کے سب سے اونچے برفیلے جنگی محاذ پر اپنے مکمل کنٹرول کے اظہار کے لیے کیا ہے۔ | اسی بارے میں راولپنڈی: سیاچین مذاکرات شروع 06 April, 2007 | پاکستان سیاچن: بھارت، پاک مذاکرات06 August, 2004 | انڈیا ’سیاچن مفاہمت خارج از امکان‘12 November, 2006 | انڈیا دشمن کون؟ تنہائی، پہاڑ یا سردی23 May, 2006 | انڈیا ’سیاچن کوامن کا پہاڑ بننا چاہیے‘ 12 June, 2005 | انڈیا من موہن سنگھ سیاچین کے قریب11 June, 2005 | انڈیا فوجی افسر برطرف، تین سال کی قید21 December, 2004 | انڈیا سیاچن : بہادری کے غلط دعوے07 May, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||