اعجاز مہر بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | سیاچین میں خراب موسم کی وجہ سے دونوں ملکوں کے سینکڑوں فوجی مارے جاچکے ہیں |
پاکستان اور بھارت کے درمیاں دنیا کے اونچے ترین میدان جنگ سیاچن کا تنازعہ حل کرنے کے بارے میں دو روزہ بات چیت راولپنڈی میں شروع ہوگئی ہے۔ بھارت کے نو رکنی وفد کی قیادت سیکریٹری دفاع شیکھر دت کر رہے ہیں جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت کامران رسول کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز بھی اس میں شامل ہیں۔ دونوں ممالک کی قیادت کے حالیہ بیانات سے واضح اشارے مل رہے ہیں کہ سیاچن کے حل کے بارے میں کوئی بریک تھرو متوقع ہے۔ لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اگر کوئی بریک تھرو ہوا بھی تو اس کا اعلان بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کے دورۂ پاکستان کے وقت ہوگا۔ سطح سمندر سے ساڑھے پانچ ہزار بلندی پر واقع سیاچن کے برفانی علاقے میں دونوں ممالک کے لیے افواج رکھنا انتہائی مشکل ہے۔  | سیاچین کا مشترکہ انتظام؟  اس دوران سیاچن کو ’پیس پارک‘ بنانے اور مشترکہ انتظام سنبھالنے سمیت کئی تجاویز زیر بحث رہی ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ اس بات چیت میں کسی حل پر اتفاق کرلیا جائے گا۔  |
گزشتہ بیس برسوں سے جاری اس تنازعہ کے دوران دونوں ممالک کے بیسیوں سپاہی جھڑپوں سے زیادہ موسمی اثرات سے ہلاک ہوچکے ہیں۔پاکستان کہتا ہے کہ بھارت نے انیس سو چوراسی میں سیاچن کے اس حصے پر قبضہ کرلیا جو پاکستان کے زیر انتظام تھا۔ جبکہ بھارت اس سے انکار کرتا رہا ہے۔ جامع مذاکرات کے تحت بات چیت کے کئی ادوار کے دوران سیاچن سے افواج کو نکالنے پر تو ابتدا سے اتفاق رہا ہے لیکن اختلافی نکتہ یہ رہا ہے کہ اس کی حیثیت کا تعین کیسے ہو۔ پاکستان کہتا ہے کہ انیس سو چوراسی سے پہلے جو علاقہ جس کے پاس تھا وہ اس کا ڈکلیئر کیا جائے جبکہ بھارت کہتا رہا کہ اب جہاں اور جیسے افواج ہیں وہ علاقہ اس کا سمجھا جائے۔ اس دوران سیاچن کو ’پیس پارک‘ بنانے اور مشترکہ انتظام سنبھالنے سمیت کئی تجاویز زیر بحث رہی ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ اس بات چیت میں کسی حل پر اتفاق کرلیا جائے گا۔ حکام کے مطابق سنیچر کو بات چیت کے اختتام پر مشترکہ بیان جاری کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ کئی برسوں بعد یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کا سیکریٹری دفاع کوئی سویلین مقرر کیا گیا ہے اور وہ پاک بھارت مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی کرے گا۔ سیکریٹری دفاع کے عہدے پر ماضی میں زیادہ تر ریٹائرڈ یا حاضر سروس فوجی افسران تعینات کیے جاتے رہے ہیں۔ |