BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 September, 2007, 12:54 GMT 17:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافیوں کو قید کی سزا پر روک

اس مقدمے پر مِڈ ڈے کا صفحہ
اس مقدمے پر مِڈ ڈے کا صفحہ
سپریم کورٹ نے دلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر عمل درآمد روک دیا ہے جس میں توہین عدالت کے معاملے میں چار صحافیوں کو قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ سابق چیف جسٹس آف انڈیا وائی کے سبھروال کے خلاف تنقید کرنے پر روزنامہ مِڈ ڈے کے چار صحافیوں کو چار چار سال کی سزا سنائی گئی تھی۔

ملک کے دانشوروں اور صحافی برادری نے دلی ہائی کورٹ کے فیصلے پر سخت تنقید کی تھی اور احتجاج کے طور جمعہ کے روز سپریم کورٹ تک مارچ کیا۔

مڈ ڈے اخبار کے وکیل پرشانت بھوشن نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کی طرف سے دی گئی سزا پر حکم امتناعی جاری کیا ہے اور معاملے کی اگلی سماعت کے لیے اگلی تاریخ آئندہ سولہ جنوری طے کی ہے۔ عدالت کی مدد کے لیے ایک سینیئر وکیل اے آر اندھیا روجینا کو امیکس کیوریئے (عدالت کا دوست) مقرر کیا گیا ہے۔

گزشتہ روز پربھاش جوشی، ارونا رائے اور اروندھتی رائے سمیت ملک کے ستائیس معروف صحافیوں اور دانشوروں کی طرف سے سپریم کورٹ میں ایک درخواست داخل کی گئی تھی جِس میں کہا گیا تھا کہ وہ مڈ ڈے اخبار کے بیان سے متفق ہیں اس لیے ان صحافیوں کے ساتھ انہیں بھی جیل بھیجا جائے کیونکہ وہ بھی وہی کہہ رہے ہیں جو مڈ ڈے نے لکھا تھا۔

پرشانت بھوشن نے بتایا: ’سپریم کورٹ نے یہ درخواست یہ کہہ کر خارج کردی ہے کہ یہ معاملہ عدالت اور مڈ ڈے اخبار کے درمیان کا ہے اس لیے کسی دوسرے کو اس کے بیچ میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘

پرشانت بھوشن کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے ملک میں بحث چھڑ گئی ہے کہ عدالتوں کو جوابدہ ہونا چاہیے کہ نہیں۔’عدالت کے پاس بے پناہ اختیار ہے لیکن آخر وہ کسی کو جوابدہ کیوں نہیں ہیں دوسری اہم بات یہ کہ کیا بدعنوانی کے باوجود وہ تنقید سے مبرا ہیں؟ اب یہی مسائل موضوع بحث ہیں۔‘

مِڈ ڈے اخبار نے خبریں شائع کی تھیں کہ چیف جسٹس وائی کے سبھروال نے دلی کے رہائشی علاقوں میں لاکھوں غیرقانونی تجارتی مراکز کو بند کرانے کے احکامات دیے تھے لیکن خود ان کے بیٹے نے اثر و رسوخ کا استعمال کر کے پلاٹ کی الاٹمنٹ اور شاپنگ مالز میں حصہ داری سے فائدہ اٹھایا تھا۔ اخبار نے جسٹس سبھروال کا ایک کارٹون بھی شائع کیا تھا اور لکھا تھا کہ چیف چسٹس نے بعض فیصلے اپنے بیٹے کو فائد پہنچانے کے لیے کیے۔

دلی ہائی کورٹ نے اس کا از خود نوٹس لیا تھا اور ایڈیٹر، رپورٹر، کارٹونسٹ اور پبلشر کو قید کی سزا سنائی تھی۔

شکتی کپورخفیہ صحافت،
برائیاں فاش کرنے کا طریقہ یا بلیک میلنگ؟
انڈین میڈیابااثر اور طاقتور میڈیا
’بھارتی میڈیا ہی ملک کا ایجنڈا طے کر رہا ہے‘
میڈیا کا مقصد کیا؟
معلومات کا ذریعہ نفع نقصان کے جال میں
یہی انڈین میڈیا ہے
ٹی وی میں سیکس، منشیات اور ڈیڈ لائنز
اسی بارے میں
بھارت رشوت میں نمبر ون
05 October, 2006 | انڈیا
تہلکہ کے دفتر پر چھاپہ
26.06.2002 | صفحۂ اول
’گواہ کو رشوت نہیں دی‘
22 December, 2004 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد