صحافیوں کو قید کی سزا پر روک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سپریم کورٹ نے دلی ہائی کورٹ کے اس فیصلے پر عمل درآمد روک دیا ہے جس میں توہین عدالت کے معاملے میں چار صحافیوں کو قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ سابق چیف جسٹس آف انڈیا وائی کے سبھروال کے خلاف تنقید کرنے پر روزنامہ مِڈ ڈے کے چار صحافیوں کو چار چار سال کی سزا سنائی گئی تھی۔ ملک کے دانشوروں اور صحافی برادری نے دلی ہائی کورٹ کے فیصلے پر سخت تنقید کی تھی اور احتجاج کے طور جمعہ کے روز سپریم کورٹ تک مارچ کیا۔ مڈ ڈے اخبار کے وکیل پرشانت بھوشن نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا: ’سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کی طرف سے دی گئی سزا پر حکم امتناعی جاری کیا ہے اور معاملے کی اگلی سماعت کے لیے اگلی تاریخ آئندہ سولہ جنوری طے کی ہے۔ عدالت کی مدد کے لیے ایک سینیئر وکیل اے آر اندھیا روجینا کو امیکس کیوریئے (عدالت کا دوست) مقرر کیا گیا ہے۔ گزشتہ روز پربھاش جوشی، ارونا رائے اور اروندھتی رائے سمیت ملک کے ستائیس معروف صحافیوں اور دانشوروں کی طرف سے سپریم کورٹ میں ایک درخواست داخل کی گئی تھی جِس میں کہا گیا تھا کہ وہ مڈ ڈے اخبار کے بیان سے متفق ہیں اس لیے ان صحافیوں کے ساتھ انہیں بھی جیل بھیجا جائے کیونکہ وہ بھی وہی کہہ رہے ہیں جو مڈ ڈے نے لکھا تھا۔ پرشانت بھوشن نے بتایا: ’سپریم کورٹ نے یہ درخواست یہ کہہ کر خارج کردی ہے کہ یہ معاملہ عدالت اور مڈ ڈے اخبار کے درمیان کا ہے اس لیے کسی دوسرے کو اس کے بیچ میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔‘ پرشانت بھوشن کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے ملک میں بحث چھڑ گئی ہے کہ عدالتوں کو جوابدہ ہونا چاہیے کہ نہیں۔’عدالت کے پاس بے پناہ اختیار ہے لیکن آخر وہ کسی کو جوابدہ کیوں نہیں ہیں دوسری اہم بات یہ کہ کیا بدعنوانی کے باوجود وہ تنقید سے مبرا ہیں؟ اب یہی مسائل موضوع بحث ہیں۔‘ مِڈ ڈے اخبار نے خبریں شائع کی تھیں کہ چیف جسٹس وائی کے سبھروال نے دلی کے رہائشی علاقوں میں لاکھوں غیرقانونی تجارتی مراکز کو بند کرانے کے احکامات دیے تھے لیکن خود ان کے بیٹے نے اثر و رسوخ کا استعمال کر کے پلاٹ کی الاٹمنٹ اور شاپنگ مالز میں حصہ داری سے فائدہ اٹھایا تھا۔ اخبار نے جسٹس سبھروال کا ایک کارٹون بھی شائع کیا تھا اور لکھا تھا کہ چیف چسٹس نے بعض فیصلے اپنے بیٹے کو فائد پہنچانے کے لیے کیے۔ دلی ہائی کورٹ نے اس کا از خود نوٹس لیا تھا اور ایڈیٹر، رپورٹر، کارٹونسٹ اور پبلشر کو قید کی سزا سنائی تھی۔ |
اسی بارے میں رشوت میں ریاست بہار نمبر ون01 July, 2005 | انڈیا بھارت رشوت میں نمبر ون05 October, 2006 | انڈیا تہلکہ کے دفتر پر چھاپہ26.06.2002 | صفحۂ اول جنوبی ایشیا: پریس زنجیروں میں16.07.2002 | صفحۂ اول تہلکہ انکوائری: سربراہ کا استعفیٰ01.01.1970 | صفحۂ اول ’گواہ کو رشوت نہیں دی‘22 December, 2004 | انڈیا بھارتی میڈیا نفع نقصان کے جال میں؟06 February, 2007 | انڈیا ’میڈیا ہی ملک کا ایجنڈا طے کر رہا ہے‘15 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||