رشوت میں ریاست بہار نمبر ون | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان دنیا کے سب سے بدعنوان ملکوں میں سے ایک ہے۔ ہندوستانیوں نے گزشتہ ایک برس میں مختلف سرکاری اداروں میں اپنے کام کروانے کے لئے 21 ارب روپے سے زیادہ کی رشوت دی ہے۔ یہ انکشاف پوری دنیا میں بدعنوانی پر نظر رکھنے والی تنظیم ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے اپنی ایک رپورٹ میں کیا۔ دلی میں جاری کی گئی اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں اس برس بدعنوانی میں اضافہ ہوا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں سب سے بدعنوان محکمہ پولیس کا ہے جہاں کوئی بھی کام بغیر رشوت دیئے نہیں ہو سکتا۔ اس فہرست میں دوسرا نام ذیلی عدالتوں کا ہے جہاں بدعنوانی عام ہے۔زمین اور جائیداد کے ریکارڈ اور رجسٹریشن کا ادارہ بھی بدعنوانی میں پیش پیش ہے۔ بدعنوانی کا یہ عالم ہے کہ طبی سہولیات بھی اس کی زد میں ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں گھٹیا ادویات سے لیکر مریضوں کو ادویات نہ دینا ، مریضوں کو داخل کرنے کے لئے رشوت لینا وغیرہ عام بات ہے۔ بدعنوانی کا یہ مطالعہ ملک کی 20
ہماچل پردیش ، گجرات ، آندھرا پردیش اور مہاراشٹر میں بدعنوانی کا اثر کم ہے۔ مسٹر تاہیلیانی نے کہا کہ معلومات حاصل کر نے کے حالیہ قانون جیسے اقدامات سے بدعنوانی کم کرنے میں مدد ملے گی۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل جرمنی میں واقع ایک غیر سرکاری تنظیم ہے۔ جو پوری دنیا میں صاف نظام کے لئے کام کر رہی ہے۔ یہ تنظيم ہر برس ملکوں کی فہرست جاری کرتی ہے۔ گزشتہ برس کے جائزے کے مطابق فن لینڈ ، نیوزی لینڈ، برطانیہ اور امریکہ جیسے ممالک سب سے کم بدعنوان ملکوں میں ہیں جب کہ ہندوستان اور پاکستان کا شمار دنیا کے سب سے کرپٹ ملکوں میں ہوتاہے۔ کل جس وقت یہ رپورٹ دلی میں جاری کی جارہی تھی اس وقت سی بی آئی ملک گیر سطح پر بدعنوان اعلی اہلکاروں کے گھروں پر چھاپے مار رہی تھی اور اطلاع کے مطابق ان چھاپوں میں بے ایمانی اور رشوت سے جمع کئے گئے کروڑوں روپے کے اثاثے اور املاک برآمد ہوئے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||