BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 24 October, 2006, 11:45 GMT 16:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خفیہ صحافت، بلیک میلنگ یا اصلاح؟

بھرتی ٹی وی
ٹی وی نیوز پر اکثر اوقات کوئی نہ کوئی خفیہ ویڈیو دکھائی جاتی ہے۔
’شرماؤ نہیں، پاس آؤ۔ میں تم سے پیار کرنا چاہتا ہوں۔‘ پچھلے سال ایک بھارتی نیوز چینل پر دکھائی گئی ویڈیو میں بالی ووڈ کا ایک معمر اداکار یہ الفاظ ایک لڑکی سے کہہ رہا تھا۔

یہ وہ موقع تھا جب بھارت میں خفیہ طریقوں سے کی جانے والی صحافت (سٹنگ جرنلزم) نے تمام حدوں کو پار کر لیا کیونکہ ویڈیو میں موجود لڑکی درحقیقت خفیہ کیمرے سے لیس ایک صحافی تھی۔

چند ہی دنوں میں اس ٹی وی چینل کے ناظرین کی تعداد تین گنا بڑھ گئی۔ چینل کا کہنا تھا کہ خفیہ طور پر بنائی گئی ایسی فلمیں بے وفا مردوں کو سبق سکھانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ ٹی وی پر خواتین ناظرین کے جو پیغامات نشر کیئے جا رہے تھے ان میں انہوں نے بتایا تھا کہ بالی وڈ کے اداکار کا حشر دیکھ کر ان کے خاوند وقت پر کام سے گھر کو لوٹنے لگے ہیں۔

پانچ سال قبل جب پہلی دفعہ ایک ویب سائٹ (تہلکہ ڈاٹ کام) پر سیاستدانوں اور پولیس افسروں کو رشوت اور دیگر کرپٹ سرگرمیاں کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا تو بھارت میں اس ویب سائٹ کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔ تاہم اب خفیہ فلم بندی جیسے ہتھکنڈے بھارت میں چالیس کے لگ بھگ ٹی وی چینلوں کی خبروں لازمی حصہ بنتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

پچھلے ایک سال سے زیادہ سے زیادہ عوام کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے ٹی وی نیوز پر اکثر اوقات کوئی نہ کوئی خفیہ ویڈیو دکھائی جاتی ہے۔

کبھی انٹرویو کے دوران مرضی کے سوالات کرنے کے لئے تو کبھی فنڈز کے حصول کے لئے پارلیمانی اراکین کو رشوت دیتے ہوئے دکھایا گیا۔ سرکاری افسران کی رشوت، ہسپتالوں میں نومولود بچوں کی خرید و فروخت، نوٹوں کے عوض فتوے دینا اور نعش کو لواحقین کے حوالے کرنے سے پہلے پولیس اہلکار کی طرف سے پیسوں کا مطالبہ، یہ سب مناظر صحافیوں کے خفیہ کیمروں کے ذریعے ٹی وی کی سکرین تک آ چکے ہیں۔

شکتی کپور
فلمی اداکار شکستی کپور کی خفیہ ریکارڈنگ نشر کی گئی

اکثر ٹی وی چینل ان خفیہ طریقوں کو سماجی فلاح و بہبود کی مشترکہ کاوشوں کا حصہ قرار دیتے ہیں تو چند ایک مدیر حضرات، خفیہ فلم بندی کو صحافتی تحقیقات اور انکشافات کا بہترین ہتھیار مانتے ہیں۔

تاہم اب ان طریقوں پر تشویش کا رجھان بڑھ رہا ہے اور عموماً ان کا نشانہ بننے والے سیاسی اور سرکاری حلقے نیوز چینلوں کے لئے قانون سازی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

چند صحافیوں کا بھی کہنا ہے کہ خفیہ طریقوں سی کی جانے والی صحافت کی وجہ سے پیشہ ور معاشرتی اصلاح اور دھوکا بازی کی درمیانی لکیر ماند پڑ رہی ہے۔ حتیٰ کہ سپریم کورٹ نے بھی آزاد صحافیوں کی طرف سے مہنگے داموں خفیہ مواد کی فروخت پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ججوں نے سوال اٹھایا ہے کہ ایسے خفیہ صحافتی آپریشن عوامی دلچسپی کے موضوع ہیں یا پھر محض بلیک میل اور پیسے کمانے کا طریقہ۔ سپریم کورٹ نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ خفیہ صحافت کا قانونی جائزہ ایک نہ ایک دن ضرور لیا جائے گا۔

بھارت میں خفیہ طریقوں سے صحافت کرنے والوں نے عدالتی اور سیاسی تشویش پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ یہ کام صرف پیشہ ور صحافی کر رہے ہیں اور اس میں اخلاقی حدوں کے ساتھ ساتھ سماجی ذمہ داریوں کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔ چنانچہ اس سلسلے میں باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے صحافت کو مفلوج کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔

 خفیہ صحافت کرنے والوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کے کام کو بھارتی عوام میں بہت سراہا جاتا ہے اور اگر اس پر رائے دہی کرائی جائے تو نناوے فیصد عوام ان کا ساتھ دے گی

چند واقعات میں صحافیوں نے غیر پیشہ ورانہ طریقوں سے بھی ایسے خفیہ آپریشن کیئے۔ یہاں تک کے پچھلے ہفتے پنجاب میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا جس نے ایک خاتون کو مقامی میئر کے پاس بھیجا اور پھر قابلِ اعتراض حالت میں دونوں کی تصاویر کھینچ کر میئر کو یہ کہہ کر بلیک میل کرنا شروع کر دیا کہ وہ اس کی تصاویر کو کسی ٹی وی چینل کو بھیج دے گا۔

ایسے واقعات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ بیشتر لوگوں کو اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ خفیہ طریقوں سے صحافت میں کیا چیز قابلِ قبول ہے اور کیا نہیں۔

سپریم کورٹ کے ججوں کی طرف سے صحافیوں کے خفیہ آپریشنز پر اعتراض کی وجہ ایک حالیہ مقدمہ تھا جو ایک جونیئر فیڈرل منسٹر کی جانب سے ایک ٹی وی چینل پر کیا گیا تھا۔

چینل نے مبینہ وزیر اور ایک قیدی کی ٹیلی فون پرگفتگو کی ریکارڈنگ نشر کی تھی۔ ریکارڈنگ میں وزیر، اس قیدی کو اپنا بیان تبدیل کرنے کے لئے کہہ رہا تھا۔ بعد میں عدالت میں یہ ثابت ہوا کہ ریکارڈنگ میں مبینہ وزیر کی آواز نہیں ہے۔

تاہم ٹی وی چینل کا کہنا تھا کہ یہ آواز وزیر ہی کی ہے اور جس وقت یہ ریکارڈنگ کی گئی، اس وقت وزیر کا گلہ خراب تھا۔ عدالت میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ٹی وی چینل کو یہ آڈیو ٹیپ پولیس کی طرف سے بھیجی گئی تھی۔

خفیہ طور پر صحافت پر تشویش کا رجھان بڑھ رہا ہے

بھارت میں صحافت کے لئے خفیہ طریقے استعمال کرنے والے ٹی وی چینلوں اور صحافیوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ واقعہ درحقیقت ایک ایڈیٹوریل غلطی تھی اس لئے اس کی بنیاد پر صحافت کے خفیہ طریقوں پر تنقید نہ کی جائے۔

ان کے بقول بھارت جیسے ملک میں ایسے صحافتی آپریشنز معاشرے کی اصلاح کے لئے بہت اہم ہیں لیکن سیاستدان اور بیوروکریسی ان کے اصل مقصد کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔

خفیہ صحافت کرنے والوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کے کام کو بھارتی عوام میں بہت سراہا جاتا ہے اور اگر اس پر رائے دہی کرائی جائے تو نناوے فیصد عوام ان کا ساتھ دے گی۔

بھارت جیسے ملک میں، جہاں بیورو کریسی، پولیس اور عدلیہ پر عوام کا اعتماد انتہائی کم ہے، وہاں ایسا دعویٰ کرنا حقیقت سے قریب تر دکھائی دیتا ہے۔

تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے بڑے یا چھوٹے، کوئی بھی خفیہ آپریشنز نشر کرتے ہوئے زیادہ ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا نیوز چینلوں کا اخلاقی فرض ہے اور انہیں اس میں غفلت نہیں برتنی چاہیئے۔

اسی بارے میں
رشوت کا ایک اور سکینڈل
20 December, 2005 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد