’میڈیا ہی ملک کا ایجنڈا طے کر رہا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان ساٹھ برس قبل جب آزاد ہوا تو اس نے جمہوریت کے ساتھ ساتھ ایک آزاد میڈیا کی پالیسی اختیار کی۔ گزشتہ ساٹھ سالوں میں ایمرجنسی کے دو برس چھوڑ کر ہندوستان میں ذرائع ابلاغ حکومت کے کنٹرول سے کم و بیش مکمل طور پر آزاد رہا ہے۔ اس وقت ہندوستان میڈیا کے انقلاب سے گزر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہےکہ میڈیا میں پوری دنیا میں ایسی ترقی کبھی نہيں ہوئی جیسی گزشتہ دس برسوں میں ہندوستان میں ہوئی ہے۔ ہندوستان میں انیس سو نواسی تک ایک ہی نیوز چینل ہوا کرتا تھا۔ اس وقت چوبیس گھنٹے نشریات والے سینتیس نیوز چینل ہیں اور آئندہ دو برس میں یہ تعداد ستر سے زيادہ ہونے کا اندازہ ہے۔ سنٹر فار میڈیا سٹڈیز یعنی سی ایم ایس کے سربراہ این بھاسکر راؤ کہتے ہيں کہ میڈیا بیس فیصد کی سالانہ شرح سے ترقی کررہا ہے۔ ’نیو میڈیا اور براڈ بینڈ اب گاؤں تک پہنچ رہے ہیں اس لیے آئندہ دس برس تک ترقی جارہی رہے گی‘۔ سی ایم ایس کے مطابق میڈیا کی سالانہ آمدنی ایک سو بلین ڈالر یا تقریباً پینتالیس ہزار کروڑ روپے ہے۔ اس میں سترہ ہزار کروڑ روپے صرف اشتہارات سے آتے ہیں۔
دلچسپ پہلو یہ ہے کہ ٹی وی کے آنے کے بعد سے عام تصور کے برعکس پرنٹ میڈیا پر اچھا اثر پڑا ہے۔ مسٹر راؤ کے مطابق ’پچھلے تین برسوں میں پرنٹ میڈیا کی زیادہ ترقی ہوئی ہے۔ ٹی وی سے اخبار پڑھنے کی عادت بڑھی ہے، ٹی وی نے لوگوں کی خبروں کی بھوک بڑھا دی ہے‘۔ یوں توملک میں تقریباً پانچ ہزار چھوٹے بڑے اخبار ہيں لیکن ان میں سے تقریباً سات سو اخبارات کا اثر زیادہ ہے۔ ان میں سے تقریباً ایک سو ایسے ہيں جن کے کئي کئی ایڈیشن ہيں۔ یہی اخبارات، ٹی وی اور ریڈیو کی طرف بھی جا رہے ہیں۔ مسٹر راؤ بتاتے ہيں ’دس سال پہلے جو بیس میڈیا ہاؤسز تھے اب وہ تیرہ ہوگئے ہيں۔ آئندہ پانچ برس میں یہ صرف پانچ یا چھ رہ جائیں گے۔ میڈیا پر ان ہاؤسز کی اجارہ داری ہوگئی ہے۔ جس کس پاس اخبار ہے اسی کے پاس ٹی وی ہے۔ وہ ریڈیو چلا رہا ہے اور وہی لوگ انٹر نیٹ پر جارہے ہيں‘۔
میڈیا ابھی تک ملک کی صرف ساٹھ فیصد آبادی تک پہنچ سکا ہے۔ ابھی چالیس فیصد لوگ میڈیا کے دائرے سے باہر ہيں اس لیےاس میں ترقی کے زبردست امکانات ہیں۔ امریکہ، برطانیہ اور آسٹرلیا کے بڑے بڑے میڈيا ہاؤسز ہندوستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہيں۔ بھاسکر راؤ کا کہنا ہےکہ میڈیا اتنا با اثر اور طاقت ور ہوچکا ہے کہ آج وہی ملک کا ایجنڈا طے کررہا ہے۔ ’اس کا زیادہ اثر سیاست، سٹاک مارکیٹ اور لائف سٹائل پر پڑا ہے۔ صحت عامہ، تعلیم اور جینڈر یعنی سماجی ترقی کے معاملات پر میڈیا کی جتنی توجہ ہونی چاہیے تھی وہ نہيں ہے‘۔ سرکردہ تجزیہ نگار سعید نقوی کا کہنا ہےکہ میڈیا مقبولیت کی درجہ بندی یا ٹی آر پی میں پھنس کر رہ گيا ہے اس لیے اس کی توجہ بہت سے سماجی مسائل پر نہيں ہے۔ ’آج کا ٹی وی چار ’سی‘ یعنی ’کمیونلزم‘ (فرقہ پرستی)، ’کرائم‘ (جرائم)، سنیما اور کرکٹ تک محدود ہو کر رہ گیا ہے اور اسے اس شکنجے سے نکلنے کی ضرورت ہے‘۔
میڈیا کے تجزیہ نگار سدھیش پچوری کہتے ہيں کہ ہندوستان کا میڈيا تکنیکی اعتبار سے بین الاقوامی سطح کا ہے اور سماج کے ہر طبقے کی مانگ پوری کررہا ہے۔ ’میڈیا بڑھتے ہوئے متوسط طبقے سے مطابقت رکھتا ہے۔ چونکہ معاشرے کو معلومات کی ایک بھوک سی ہے اس لیے میڈيا جو دے رہا ہے وہ قبول ہورہا ہے اور لوگوں کو بھی لگ رہا ہے کہ میڈیا ان کی آواز بن گيا ہے اور ان کی بات کررہا ہے‘۔ بچوری کہتے ہیں کہ پرنٹ اور ٹی وی دونوں آپس میں مل گئے ہیں اور دونوں نے ’انفو ٹینمنٹ‘ کو اپنا لیا ہے۔ دونوں کا معیار سطحی ہوا ہے۔ معروف صحافی اور ’آوٹ لُک‘ کے ایڈیٹر ونود مہتہ کہتے ہيں کہ میڈیا کو عوام کی زبردست حمایت حاصل ہے۔ ’چونکہ عوام سیاست دانوں سے بہت بدظن ہیں اس لیے میڈیا عوام کی حمایت سے نشے میں ہے اور وہ سوچتا ہے کہ وہ جو بھی کرے گا چل جائے گا‘۔ مسٹر مہتہ کہتے ہیں: ’ترقی کے ساتھ ساتھ نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ ضابطوں کی بہت ضرورت ہے لیکن میڈیا کی آزادی کو برقرار رکھنے کے لیے کسی بھی طرح کے ریگولیشن سے حکومت کو ہر قیمت پر الگ رکھنا ہوگا کیونکہ آزاد میڈیا گزرے ہوئے ساٹھ برس کا نہيں مستقبل کا بھی سب سے بڑا جمہوری اثاثہ ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||