منموہن کا استعفے سے انکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیراعظم منموہن سنگھ نے ہند-امریکہ جوہری معاہدے کی ناکامی پرحزب اختلاف کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) کی طرف سے استعفے کےمطالبے کومسترد کردیاہے۔ وزیراعظم کا کہناہے کہ بی جے پی کو استعفے کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ بی جے پی نے جوہری معاہدے کے ناکامی پر وزیر اعظم سے اخلاقی بنیادوں پر استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ بی جے پی کے مطالبے پرمنموہن سنگھ کا کہنا ہے کہ اگر حکومت چلانےکا بنیادی معیار اخلاقیات ہیں تو ملک کی سبھی سیاسی جماعتوں میں بی جے پی اس معیار میں سب سے کم ترہے۔ مسٹر سنگھ نے یہ بات جمعرات کو جنوبی افریقہ سے وطن واپسی کے دوران ہوائی جہاز میں نامہ نگاروں سے کہی۔ مسٹر سنگھ نےگجرات فسادات سے لے کر پاکستان کے صدر پرويزمشرف کے ساتھ آگرہ چوٹی کانفرنس کی ناکامی سمیت کرگل جنگ کے لیے بی جے پی کو مورد الزام ٹھرایا۔ وزیراعظم کا کہنا تھاکہ ’ جب بی جے پی کے دور اقتدار میں گجرات فسادات ہوئے تو انہوں نے استعفی دینے کے بجائے ریاستی حکومت کی تعریف کی تھی جبکہ اس فسادات میں ایک ہزار سے زيادہ افراد مارے گئے تھے اور ہلاک ہونے والوں میں بیشتر مسلمان تھے۔ انہوں نے آگرہ چوٹی کانفرنس کا ذکر کیا اور کہا کہ ’جب کرگل میں دراندازي ہورہی تھی تو بی جے پی کی حکومت سو رہی تھی اور آج وہی سیاسی جماعت اخلاقیات کی بات کررہی ہے‘۔ ہند- امریکہ جوہری معاہدے کے بارے میں وزيراعظم پہلے ہی باور کراچکے ہیں کہ جوہری معاہدہ ابھی ناکام نہیں ہوا ہے اور اس کے متعلق اپنی اتحادی جماعتو ں کے درمیان وہ مفاہمت کرنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ اتفاق رائے قائم ہوسکے۔ واضح رہے کہ منموہن سنگھ نے پیر کو امریکی صدر جارج ڈبلیو بش سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں امریکہ اور ہندوستان کے درمیان جوہری معاہدے کے نفاذ میں مشکلات کا سامنا ہے۔اس سے پہلی بار یہ ظاہر ہوا ہے کہ ہندوستان جوہری معاہدے کو مسترد کرسکتا ہے۔ ہند-امریکہ جوہری معاہدے کو لیکر حکمراں قومی اتحاد میں شدید اختلافات ہیں اور حکمراں اتحاد کا باہر سے حمایت کرنے والے بایاں محاذ کا کہنا ہےکہ اگر حکومت معاہدے کانفاذ کرتی ہے تو وہ حکومت سے اپنی حمایت واپس لے گی۔ بایاں محاذ کی دلیل ہے کہ امریکہ سے جوہری معاہدے کرنے پر ہندوستان کی خارجہ پالیسی متاثر ہوسکتی ہے۔ اس معاہدے پر حکومت کو بعض دوسری سیاسی جماعتوں سے بھی اختلافات کا سامنا ہے۔ جب نامہ نگاروں نے وزیراعظم سے پوچھا کہ معاہدے کے تعطل میں پڑنے سے بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی ساکھ کو دھچکا نہیں پہنچےگا تو ان کا کہنا تھاکہ’جب کوئی کام منصوبے کے مطابق نہیں ہو پاتا تو تھوڑا اثر تو پڑتا ہی ہے‘۔ خیال رہے کہ اگر ہندوستان اور امریکہ کے درمیان جوہری شعبے میں یہ تاریخی معاہدہ پائے تکمیل تک پہنچ جاتا تو معاہدے کے تحت ہندوستان کو امریکہ کی جوہری ٹیکنالوجی تک رسائی حاصل ہو جاتی۔ |
اسی بارے میں جوہری معاہدے پرمشکلات: منموہن16 October, 2007 | انڈیا جوہری معاہدے پر مذاکرات جاری18 October, 2007 | انڈیا آئی اے ای اے کے سربراہ بھارت میں09 October, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ، سیاسی تعطل برقرار19 September, 2007 | انڈیا ’ذمہ داری کانگریس پر ہوگی‘23 August, 2007 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||