BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 22 September, 2007, 08:40 GMT 13:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پروگرام پاکستانی، میزبان ہندوستانی

 انو کپور
ہماری تہذیب ہمارا کلچر ایک ہے پھر یہ دوریاں کیوں: انو کپور
بالی وڈ اداکار اور سٹیج شو میزبان انو کپور پاکستانی ٹیلی ویژن کے ایک شو کی میزبانی کریں گے۔یہ مکالماتی شو پاکستان کی آئی لائن ٹیلی کمپنی منعقد کر رہی ہے جس میں پاکستان کی معزز اور کامیاب شخصیات کو مدعو کیا جائےگا اور انو ان سے ان کی کامیاب زندگی کے بارے میں گفتگو کریں گے۔

ایک گھنٹہ کے اس ہفتہ وار پروگرام کا ابھی نام طے نہیں کیاگیا ہے۔انوانڈیا میں انتاکشری پروگرام کے میزبان ہیں اور وہ اپنے اس پروگرام سےکافی مشہور بھی ہوئے تھے۔

پاکستانی ٹیلی ویژن کمپنی کے ساتھ انو اس سے پہلے بھی کام کر چکے تھے۔انو نے اس سلسلہ میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’جب وہ اپنی پیشکش لے کر میرے پاس آئے تو مجھے ان کا یہ آئیڈیا بہت اچھا لگا اور میں نے اسے قبول کرنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی۔لیکن ابھی ساری باتیں فائنل نہیں ہو سکی ہیں اور میں اس کی حتمی میٹنگ کے لیے دبئی جا رہا ہوں‘۔

انو کے مطابق اس شو میں وقتاً فوقتاً ہندستانی معزز شخصیات کو بھی مدعو کیا جائےگا۔انو کہتے ہیں کہ انہیں شو سے پہلے ان کے مہمان شخصیت کی مکمل زندگی کا خاکہ اور تفصیلات دی جائیں گی۔

 میں والدہ سے جن کا نام کمل شبنم ہے اردو پڑھنا تو نہیں سیکھ سکا لیکن صحیح تلفظ کی ادائیگی میں نے انہیں سے سیکھی ہے جس کے بعد میں نے ہندی میں دیوان غالب ، اور دیوان میر کے ساتھ کئی شعرا کو پڑھا اور آج بھی اردو ادب کے ہندی میں تراجم پڑھتا ہوں
انو کپور

زی ٹی پر ایسا ہی پروگرام ' جینا اسی کا نام ہے ' کافی عرصہ تک چلتا رہا لیکن یہ پروگرام صرف فلمی اور ٹی وی شخصیات کی زندگی پر منحصر تھا۔

ٹیلی ویژن کی دنیا میں اس تبدیلی پر انو کا کہنا ہے کہ ’ ہماری تہذیب ہمارا کلچر ایک ہے۔ہم ایک طرح کی ہی زندگی جیتے ہیں تو پھر یہ دوریاں کیوں‘؟

انو کا خیال ہے کہ ان کے اردو زبان کے سشتہ اور صاف تلفظ اور ان کی اردو شاعری سے واقفیت نے شاید ان کے حق میں کام کیا اور انہیں یہ پروگرام ملا ہے۔

انو کی والدہ ’ کمل شبنم ‘ اردو کی شاعرہ اور استاد ہیں اور انو کو اپنی والدہ سے یہ سب کچھ وراثت میں ملا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ’ میں والدہ سے اردو پڑھنا تو نہیں سیکھ سکا لیکن صحیح تلفظ کی ادائیگی میں نے انہیں سے سیکھی ہے جس کے بعد میں نے ہندی میں دیوان غالب ، اور دیوان میر کے ساتھ کئی شعرا کو پڑھا اور آج بھی اردو ادب کے ہندی میں تراجم پڑھتا ہوں‘۔

بالی وڈ اور ہالی وڈ فلموں میں فنکاروں کے تبادلہ کی دھوم زیادہ ہے لیکن ٹی وی چینلز میں دونوں ممالک کے فنکاروں کا لین دین اتنا بڑھ گیا ہے کہ اب اس میں فرق کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

پاکستانی جیو ٹیلی ویژن کے ڈراموں میں ایک عرصہ سے ہندستانی اداکار اور اداکارائیں کام کر رہی ہیں لیکن انڈین ٹیلی ویژن کے چند مخصوص مقابلہ جاتی شو میں پاکستانی فنکار چھائے ہوئے ہیں۔

سٹار ون ٹی چینل پر لافٹر چیلنج ( ہنسی کا مقابلہ ) میں گزشتہ تین برسوں سے پاکستانی ممکری آرٹسٹ حصہ لے رہے ہیں جس میں وہاں کے نامور مزاحیہ اداکار رؤف لالہ اول نمبر پر رہے تھے۔

 اس برس ' لافٹر چینلج ' تھری کے فائنل پروگرام میں پاکستان کے نامور ڈرامہ اداکار اور ممکری آرٹسٹ عمر شریف بطور جج شریک ہوئے تھے۔عرفان ملک،علی حسن ، پرویز صدیقی جیسے چند نام ہیں جنہوں نے پاکستان سے انڈیا کے اس مقابلہ جاتی ٹیلی ویژن شو میں حصہ لیا

اس برس ' لافٹر چینلج ' تھری کے فائنل پروگرام میں پاکستان کے نامور ڈرامہ اداکار اور ممکری آرٹسٹ عمر شریف بطور جج شریک ہوئے تھے۔عرفان ملک، علی حسن، پرویز صدیقی جیسے چند نام ہیں جنہوں نے پاکستان سے انڈیا کے اس مقابلہ جاتی ٹیلی ویژن شو میں حصہ لیا۔

اپنے اس پروگرام میں عمر شریف نے کہا تھا ’ ہم اپنے یہاں سے محبت کا پیغام لے کر آئے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کے عوام دل کھول کر گلے ملیں‘۔

پاکستانی عوام کے لیے اپنے دلوں اور سرحدوں کے دروزاے کھولنے کے لیے شریف نے ہندستانی عوام کا شکریہ ادا کیا۔

زی ٹی وی ’ سا رے گا ما پا ‘ میں گلوکاری کے لیے مقابلہ ہو رہا ہے اس شو میں پاکستان سے جنید شیخ اور مسرت عباس نے حصہ لیا۔اب آخری مراحل میں حالانکہ یہ دونوں اس مقابلہ سے باہر ہو چکے ہیں پاکستانی نژاد دبئی کے امانت علی ابھی اس پروگرام میں موجود ہیں۔

دراصل تجارت سے زیادہ فنکاروں کے تبادلوں نے دلوں کو یکجا کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ اور ٹیلی ویژن انڈسٹری دھیمے لیکن مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔

صائمہ’منگی لال راکس‘
پاک بھارت اشتراک سے بننے والی پہلی فلم
رمن جیتلاہور کا بھنگڑا میلہ
لاہور میں بسنت نہیں تو بھنگرا میلہ لگا
پوسٹرمشترکہ فلم سازی
بھارتی فلم ساز پاکستان کے ساتھ کیوں کام کریں؟
اسی بارے میں
جاوید شیخ کی بھارتی فلم تیار
15 November, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد