مشترکہ مشقوں کے خلاف احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں حکومت کی اتحادی بائیں بازو کی جماعتوں نے بھارت اورامریکہ کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں کے خلاف منگل سے ملک گیر احتجاجی مظاہروں کا آغاز کیا ہے۔ منگل سے خلیج بنگال میں امریکہ، بھارت، آسٹریلیا، جاپان اور سنگا پور کی مشترکہ بحری مشقیں شروع ہوئی ہیں۔ ’مالابار‘ کے نام سے ہونے والی ان چھ روزہ مشقوں میں پانچوں ممالک کے چونتیس بحری جہاز اور آبدوزیں حصہ لیں گی۔ کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ ان جنگی مشقوں کا مقصد خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی طاقت کا مقابلہ کرنا ہے۔ اگرچہ مشقوں میں شامل ممالک اس بات کی تردید کرتے ہیں لیکن چین نے ان مشقوں پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ہندوستانی بحریہ کے ترجمان کیپٹن ونےگارج کا کہنا تھا کہ ’ یہ شاید ایشیا کی تاریخ کی سب سے بڑی مشقیں ہوں گی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ بحری جہاز اور آبدوزیں مختلف قسم کی مشقوں میں حصہ لیں گے جن میں جنگی حکمت عملی اور امدادی کارروائیوں کی مشقوں کے علاوہ مل کر کام کرنے کی تربیت بھی شامل ہے۔
ان مشقوں میں ہندوستان کے واحد طیارہ بردار جہاز کے علاوہ امریکی بحریہ کے دو بڑے طیارہ برادر جہاز، یو ایس ایس نمٹز اور یو ایس ایس کےٹی، حصہ لے رہے ہیں۔ ان کے علاوہ امریکہ کی ایک آبدوز، یو ایس ایس شکاگو، بھی مشقوں میں شامل ہے۔ ’سامراجیت کی چال‘ بائیں بازو کی جماعتوں نے اس موقع پر کئی ایسے پمفلٹ بھی شائع کیے ہیں جن میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ بھارت کے حق میں کیوں نہیں ہے۔ ان میں کہا گیا ہے کہ جوہری معاہدے کا اصل مقصد خطے میں’ امریکی ایجنڈے کو فروغ دینا ہے۔‘ ان پمفلٹز میں بھارت کے مفاد کی حفاظت پر زور دیا گیا ہے اور جوہری معاہدے کے حوالے سے حکومت پر سخت نکتہ چینی کی گئی ہے۔’ یہ منموہن سنگھ حکومت کی بھارت کو امریکہ کے قریب تر کرنے کی کوشش ہے۔‘
بائیں بازو کے محاذ نے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں کو بھی نشانہ بنایا ہے اور کہا ہے کہ جوہری معاہدہ ایک اور ’ جھوٹا وعدہ ہے‘ کہ اس سے سستی توانائی فراہم کی جائےگی۔ احتجاجی ریلیوں کا آغاز بیک وقت کولکتہ اور چینائی سے ہوگا۔ کولکتہ میں احتجاجی ریلی کی قیادت کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے جنرل سیکرٹری اے بی بردھن کریں گے۔ مارکسی کمیونسٹ پارٹی کے رہنما پرکاش کرات چینائی میں مظاہرے کا آغاز کریں گے۔ سات ستمبر تک یہ مظاہرے جاری رہیں گے جس کے دوران کئی مقامات پر عوامی جلسے منعقد کیے جائیں گے۔ دونوں احتجاجی ریلیا سات تاریخ کو وشکھا پٹنم کے مقام پر ایک دوسرے میں مل جائیں گی۔ جوہری معاہدے کے مسئلے پر حکومت اور بائیں محاذ کے درمیان اختلافات کم ہونے کے بجائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں اورکئی ملاقاتوں کے باوجود دونوں اپنے اپنے موقف پر بھی قائم ہیں۔ |
اسی بارے میں بھارت: جنگی طیاروں کیلیےٹینڈر طلب 29 August, 2007 | انڈیا ’امریکہ سے جوہری معاہدہ مسترد‘07 August, 2007 | انڈیا بھارت اور امریکہ کا جوہری معاہدہ27 July, 2007 | انڈیا جوہری معاہدہ، بائیں محاذ کا اجلاس 17 August, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||