کوئمبٹور دھماکے: مدنی بے قصور | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
تمل ناڈو کے شہر کوئمبٹور کی ایک ذیلی عدالت نے بدھ کو کوئمبٹور میں انیس سو اٹھانوے کے سیریل بم دھماکوں کے مقدمے میں ’الامہ‘ تنظیم کے بانی سید احمد باشا کو بم حاصل کرنے اور دھماکوں کی سازش کا قصوروار قرار دیا ہے۔ عدالت نے اس مقدمے کے ایک اہم ملزم پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے عبدالناصر مدنی کو تمام الزامات سے بری کردیا ہے جو گزشتہ نو برس سے جیل میں تھے۔
عدالت نے 158 ملزموں کو قصوروار قرار دیا۔ سزاؤں کا تعین چھ اگست کو متوقع ہے۔ عدالت نے آٹھ ملزمین کو رہا کردیا ہے۔ فروری انیس سو اٹھانوے میں کوئمبٹور میں مختلف مقامات پر اٹھارہ بم دھماکے ہوئے تھے ان میں وہ مقام بھی شامل تھا جہاں اس وقت کے وزیر داخلہ ایل کے اڈوانی ایک انتخابی ریلی کو خطاب کرنے والے تھے۔ لیکن وہاں پہنچنے میں تاخیر کے سبب وہ بچ گئے تھے۔ ان دھماکوں میں مجموعی طور پر اٹھاون افراد ہلاک اور دو سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ممنوعہ تنظیم الامہ سے تعلق رکھنے والے کئی خود کش حملہ آور اڈوانی کے قتل کے مشن پر تھے۔ ان دھماکوں کے سلسلے میں تمل ناڈو کی پولیس نے کرناٹک، آندھرپردیش اور مغربی بنگال سے ایک سو اڑسٹھ مسلمانوں کو گرفتار کیا تھا۔ ان میں سے ایک کی موت ہوچکی ہے اور ایک سرکاری گواہ بن گئے۔
ملزموں کے ایک وکیل کا کہنا ہےکہ بیشتر ملزمان آٹھ یا نو برس سے جیل میں ہيں۔ ان میں اکثریت ایسی ہے جن پر جو الزامات لگائے گئے ہيں اگر وہ ثابت بھی ہوجائیں تو بھی وہ ممکنہ طور پر ملنے والی سزاؤں سے زیادہ مدت پہلے ہی جیل میں کاٹ چکے ہوں گے۔ جن کے خلاف الزام ثابت نہيں ہو سکے گا انہيں کسی جرم کے بغیر سزا مل چکی ہوگی۔ | اسی بارے میں ممبئی: فرقہ وارایت کے متاثرین کی شکایت26 July, 2007 | انڈیا فسادات سے متاثر، انصاف کے طلبگار 18 May, 2007 | انڈیا 1993 دھماکے: عرضی مسترد12 July, 2007 | انڈیا ممبئی دھماکے، تین کو سزائے موت18 July, 2007 | انڈیا ممبئی دھماکے، مزید تین کو سزائے موت19 July, 2007 | انڈیا بھاگل پور فساد: سزائیں مؤخر27 June, 2007 | انڈیا مکہ مسجد دھماکے: ایک شخص گرفتار25 May, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||