BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 01 August, 2007, 10:12 GMT 15:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئمبٹور دھماکے: مدنی بے قصور
بم دھماکے(فائل فوٹو)
کئی خود کش حملہ آور اڈوانی کے قتل کے مشن پر تھے: پولیس
تمل ناڈو کے شہر کوئمبٹور کی ایک ذیلی عدالت نے بدھ کو کوئمبٹور میں انیس سو اٹھانوے کے سیریل بم دھماکوں کے مقدمے میں ’الامہ‘ تنظیم کے بانی سید احمد باشا کو بم حاصل کرنے اور دھماکوں کی سازش کا قصوروار قرار دیا ہے۔

عدالت نے اس مقدمے کے ایک اہم ملزم پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے عبدالناصر مدنی کو تمام الزامات سے بری کردیا ہے جو گزشتہ نو برس سے جیل میں تھے۔

انتقام
 دھماکے نومبر انیس سو ستانوے میں کوئمبٹور شہر میں فسادات کے دوران پولیس کے ہاتھوں اٹھارہ مسلمانوں کی ہلاکت کے انتقام کے طور پر کیے گئے تھے۔ان فسادات میں مسلمانوں کے تجارتی مراکز اور دکانوں و گھروں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا یاگیا تھا۔
پولیس
مولانا مدنی کے خلاف تفتیش میں کچھ نہيں ملا تھا اور چند مہینے قبل کیرالہ کی اسمبلی نے متفقہ طور پر ان کو رہا کرنے کے لیے قرداد منظور کی تھی۔

عدالت نے 158 ملزموں کو قصوروار قرار دیا۔ سزاؤں کا تعین چھ اگست کو متوقع ہے۔ عدالت نے آٹھ ملزمین کو رہا کردیا ہے۔

فروری انیس سو اٹھانوے میں کوئمبٹور میں مختلف مقامات پر اٹھارہ بم دھماکے ہوئے تھے ان میں وہ مقام بھی شامل تھا جہاں اس وقت کے وزیر داخلہ ایل کے اڈوانی ایک انتخابی ریلی کو خطاب کرنے والے تھے۔ لیکن وہاں پہنچنے میں تاخیر کے سبب وہ بچ گئے تھے۔ ان دھماکوں میں مجموعی طور پر اٹھاون افراد ہلاک اور دو سو سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ممنوعہ تنظیم الامہ سے تعلق رکھنے والے کئی خود کش حملہ آور اڈوانی کے قتل کے مشن پر تھے۔

ان دھماکوں کے سلسلے میں تمل ناڈو کی پولیس نے کرناٹک، آندھرپردیش اور مغربی بنگال سے ایک سو اڑسٹھ مسلمانوں کو گرفتار کیا تھا۔ ان میں سے ایک کی موت ہوچکی ہے اور ایک سرکاری گواہ بن گئے۔

سزا مِل چکی
 بیشتر ملزمان آٹھ یا نو برس سے جیل میں ہيں۔ ان میں اکثریت ایسی ہے جن پر جو الزامات لگائے گئے ہيں اگر وہ ثابت بھی ہوجائیں تو بھی وہ ممکنہ طور پر ملنے والی سزاؤں سے زیادہ مدت پہلے ہی جیل میں کاٹ چکے ہوں گے۔ جن کے خلاف الزام ثابت نہيں ہو سکے گا انہيں کسی جرم کے بغیر سزا مل چکی ہوگی
وکیل صفائی
پولیس کے مطابق فروری کے دھماکے نومبر انیس سو ستانوے میں کوئمبٹور شہر میں فسادات کے دوران پولیس کے ہاتھوں اٹھارہ مسلمانوں کی ہلاکت کے انتقام کے طور پر کیے گئے تھے۔ان فسادات میں مسلمانوں کے تجارتی مراکز اور دکانوں و گھروں کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا یاگیا تھا۔

ملزموں کے ایک وکیل کا کہنا ہےکہ بیشتر ملزمان آٹھ یا نو برس سے جیل میں ہيں۔ ان میں اکثریت ایسی ہے جن پر جو الزامات لگائے گئے ہيں اگر وہ ثابت بھی ہوجائیں تو بھی وہ ممکنہ طور پر ملنے والی سزاؤں سے زیادہ مدت پہلے ہی جیل میں کاٹ چکے ہوں گے۔ جن کے خلاف الزام ثابت نہيں ہو سکے گا انہيں کسی جرم کے بغیر سزا مل چکی ہوگی۔

اسی بارے میں
1993 دھماکے: عرضی مسترد
12 July, 2007 | انڈیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد