BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 03 July, 2007, 14:13 GMT 19:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’اتر پردیش میں آئی ایس آئی‘

یو پی اسمبلی
آئی ایس آئی کے مبینہ پھیلاؤ کے بارے میں اطلاع ریاستی وزیر پارلیمانی امور نے اسمبلی کو دی
اترپردیش حکومت نے کہا ہے کہ ریاست کے 34 اضلاع میں پاکستان کی خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس نے اپنی جڑیں جما لی ہیں۔ ان اضلاع میں دہشت گردی کی سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیےخصوصی سیل قائم کیے گئے ہیں۔ مرکزی خفیہ ایجنسیوں کی فراہم کردہ معلومات کے حوالے سے یہ اطلاع اترپردیش اسمبلی میں ریاست کے پارلیمانی امور کے وزیرلال جی ورما نے دی۔

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ریاستی دارالحکومت لکھنؤ اور بجنور ضلع سے پولیس نے پانچ مبینہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا ہے جن پر ممنوعہ شدت پسند تنظیم حرکت الجہادالاسلامی سے وابستہ ہونے کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ تین انتہا پسند کولکتہ سے گرفتار کرکے لکھنؤ لائےگئے ہیں۔ جلال الدین عرف بابو، نوشاد، عزیز الرحمان، مختار اور اکبر نام کے یہ مبینہ انتہا پسند فی الوقت لکھنؤ کی خصوصی سی بی آئی عدالت کی ہدایت پر پولیس ریمانڈ پر ہیں۔

خفیہ ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ ان انتہا پسندوں کو پاکستان اور بنگلہ دیش میں ’دہشت گردانہ‘ حملوں کی ٹریننگ دی گئی ہے۔ ریاست کےڈائرکٹر جنرل پولیس وکرم سنگھ نے بتایا کہ ان افراد نے کم سے کم ایک سو پچاس نوجوانوں کوسرحد پار لے جاکر دہشت گردی کی ٹریننگ دلائی ہے۔

ریاستی وزیر لال جی ورما نے بتایا کہ بقول ان کے جن اضلاع میں آئی ایس آئی اپنی معاون تنظیموں کی مدد سے سرگرم ہے ان میں لکھنؤ بھی شامل ہے۔ وزیر موصوف نے بہرحال کسی معاون تنظیم کا نام نہیں لیا۔ انہوں نے بتایا کہ خفیہ ایجنسیوں نے اس کے ساتھ ہی کانپور، علی گڑھ، میرٹھ، بجنور، بلند شہر،

غیر ملکی تبلیغی وفود پر بھی پابندی
 گورکھپور اور کشی نگر میں غیر ملکی تبلیغی وفود کی نقل و حرکت پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی اور مصر، ایتھوپیا اور مراکش سے آئے تبلیغی اراکین سے مختلف پولیس ٹیموں نے سخت پوچھ گچھ کی تھی
سہارنپور، مظفر نگر، رامپور، مرادآباد، آگرہ، غازی آباد ، متھرا، فیروزآباد،گوتم بدھ نگر، باغپت، جے پی نگر، ہاتھرس، بریلی، لکھیم پور، بہرائچ، شراوستی، بلرامپور، اعظم گڑھ، گورکھپور، مہراج گنج، سدھارتھ نگر، بنارس، بستی، فیض آباد، گونڈہ، مئو، امبیڈکر نگر اور بارہ بنکی اضلاع کی نشاندہی کی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان اضلاع میں مسلمانوں کی خاصی آبادی ہے۔

ان اضلا ع میں حکومتی ایجنسیاں غیر ملکی تبلیغی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھ رہی ہیں۔ گزشتہ جمعہ کو گورکھپور اور کشی نگر میں غیر ملکی تبلیغی وفود کی نقل و حرکت پر بھی پابندی لگا دی گئی تھی اور مصر، ایتھوپیا اور مراکش سے آئے تبلیغی اراکین سے مختلف پولیس ٹیموں نے سخت پوچھ گچھ کی تھی۔

ان اضلاع میں نگرانی کے لیے خفیہ محکمہ کے انتالیس خصوصی شعبے قائم کیے گئے ہیں۔ مسٹر ورما نے مزید بتایا کہ بھارت سے متصل نیپال سرحد کی نگرانی کے لیے سلامتی دستوں کی ایک سو دو چوکیاں قائم ہیں۔

بی جے پی کامیاب؟
انڈیا میں سیکورٹی کے لیئے کیلیئے ہرقربانی جائز
فائل فوٹوبمبئی بم دھماکے
ممبئی کے دھماکوں میں ایک اور ملزم قصوروار
فائل فوٹوممبئی بم دھماکے
ممبئی کے دھماکوں میں نو ملزمان مجرم ثابت
مالیگاؤں دھماکے
میں زخمی کا نام نہ پوچھ پایا: ایک عینی شاہد
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد