BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 20 May, 2007, 14:04 GMT 19:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بہار: خواتین امیدوار پرُ جوش

خواتین امیدوار کا انتخابی پوسٹر
انتخابی پوسٹروں میں خواتین امیدواروں کو اہمیت دی گئی ہے
بہار میں بلدیاتی انتخابات میں خواتین کے لیے نصف سیٹیں مخصوص کیے جانے کے بعد مردوں کی جانب سے خواتین کی حوصلہ افزائی میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔

واضح رہے کہ چھبیس اور ستائیس مئی کو ریاست بہار میں شہری اور نیم شہری علاقوں میں بلدیاتی انتخابات ہونے والے ہیں۔

ریاستی الیکشن کمیشن کے سیکریٹری رگھونش کمار سنہا کے مطابق ریاست کی سات میونسپل کارپوریشنز، بیالیس میونسپل کونسلز اور ستر میونسپل پنچائتوں کی تقریباً تین ہزار سیٹیں ہیں۔ ان میں سے تقریباً آدھی سیٹیں خواتین کے لیے مخصوص ہیں۔

جن سیٹوں پر اب تک مرد قابض تھے انہیں خواتین کے لیے مخصوص کرنے کی وجہ سے لوگوں نے اپنی بیویوں کو ہی امیدوار بنا ڈالا ہے۔ انتخابی مہم میں بھی نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ پہلے صرف امیدواروں کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل کی جاتی تھی، اب یہ کہا جا رہا ہے کہ فلاں شخص کی اہلیہ کو ووٹ دیں۔

اس مہم میں جن نعروں کا استعمال کیا جا رہا ہے وہ اس بات کے مظہر ہیں کہ پس پردہ رہنے والی خواتین کو آگے رکھنا اب مردوں کی مجبوری بن گئی ہے۔

گزشتہ انتخابات میں منتخب ہونے والے ایک وارڈ کونسلر ہری اوم کی اہلیہ سشیلا دیوی علاقے کے لوگوں سے اپنے شوہر کے ’کیے کاموں‘ کے بدلے ووٹ مانگ رہی ہیں۔

بلدیاتی انتخابات میں خواتین کے لیے نصف سیٹوں سے ان کی سیاسی بیداری میں اضافہ ہوا ہے: ششی یادہ

ان انتخابات میں خاتون مسلم امیدواروں کے پوسٹر تو نظر آ رہے ہیں لیکن اکثر جگہوں پر انتخابی مہم چلانے کی ذمہ داری گھر کے مرد ہی ادا کر رہے ہیں۔

ایک امیدوار عذرا پروین کہتی ہیں ’گھر سے نکلنے کی عادت نہیں مگر اب ووٹ مانگنے کے لیے نکلنا ہی پڑے گا‘۔

ان انتخابات میں جو پوسٹر بنائے گئے ہیں، ان میں خاتون امیدواروں کو برتری حاصل ہے اور اکثر پوسٹروں میں مرد امیدواروں کی تصویریں نچلے حصے میں لگائی گئی ہیں۔

آل انڈیا پروگریسو وومن ایسوسی ایشن کی ریاستی صدر ششی یادہ کہتی ہیں کہ خواتین کے لیے نصف سیٹوں کی ریزرویشن سے ان کی سیاسی بیداری میں اضافہ ہوا ہے۔

ششی یہ بات تسلیم کرتی ہیں کہ مکھیا اگر عورت ہو تو ان کے اختیار حقیقت میں ان کے شوہر استعمال کرتے ہیں تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایسا ہر معاملے میں نہیں ہوتا۔

ان کا کہنا ہے کہ ایک ایسے معاشرے میں کہ جہاں مرد حاوی ہیں وہاں خواتین سیاسی عہدے حاصل کر رہی ہیں جو بڑی بات ہے اور انہیں امید ہے کہ خواتین یہ اختیار پوری طرح اپنے ہاتھوں میں لیں گی۔

اس سے قبل گاؤں کی پنچایتوں میں تقریباً ڈھائی لاکھ سیٹوں میں سے نصف سیٹیں خواتین کے لیے مخصوص کی گئی تھیں۔ اس وقت مکھیا اور سرپنچ کی تقریباً سولہ ہزار سیٹوں میں سے آدھے سے زائد پر خواتین فائز ہیں۔ انتخابی عمل میں حصہ لے کر سیاست کے عملی میدان میں اترنے کے بعد ان خواتین کے شوہروں کی شناخت ’مکھیا پتی (شوہر)‘ اور ’سرپنچ پتی (شوہر) ‘ کے طور پر ابھر رہی ہے۔

پنچایتی انتخابات
بہار: پنچایتی راج متعارف کرانے میں ناکامی
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد