BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 07 March, 2007, 09:35 GMT 14:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نٹھاری کیس: منتقلی کی اپیل خارج
نٹھاری کیس فائل فوٹو
دسمبر میں نوئیڈا میں ایک گٹر اور باغیچے کی کھدائی کے بعد انسانی کھوپڑیاں برآمد ہوئی تھیں
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے نٹھاری قتل کیس کی سماعت دلی منتقل کرنے کی اپیل خارج کر دی ہے۔

قتل مقدمے کے اہم ملزم منندر سنگھ پندھیر کے بیٹے کرن دیپ سنگھ نے
عدالت سے درخواست کی تھی انہیں اپنے والد سے ملاقات کرنے کی
اجازت دی جائے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ریاست اترپردیش کے موجودہ سیاسی حالات کے پیش نظر غیر جانب دار سماعت کی امید نہیں کی جا سکتی ہے اس لیے مقدمے کی سماعت دلی منتقل کر دی جائے تاہم سپریم کورٹ نے یہ درخواست مسترد دی۔

گزشتہ برس دسمبر میں نٹھاری قتل کا معاملہ منظر عام پر آیا تھا اور امکان ہے
کہ اس واقعہ میں بیس سے زائد بچوں اور عورتوں کا جنسی زیادتی کے بعد بیہمانہ قتل کیا گيا ہے۔

دوسری جانب نٹھاری قتل کیس سامنے آنے کے بعد بچوں اور عورتوں کے گمشدگی اور سمگلنگ کو روکنے کے لیے حکومت مناسب اقدام کے طور پرموجودہ قانون میں تبدیلی کے لیے تیار ہے۔

نٹھاری قتل کیس کے بعد مرکز کی جانب سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور اس کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر قانون میں تبدیلی کی جائے گی تاکہ نٹھاری جیسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں
شیو راج پاٹل

بدھ کو ایوانِ بالا یعنی راجیہ سبھا میں ارکان پارلیمان کے سوالوں کے جواب میں وزیر داخلہ شیوراج پاٹل نے کہا کہ نٹھاری قتل کیس کے بعد مرکز کی جانب سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے اور اس کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر قانون میں تبدیلی کی جائے گی تاکہ نٹھاری جیسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔

بعض ارکان پارلیمان ایسے معاملات کو مرکزی قانون کے دائرۂ اختیار میں لائے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

وقفۂ صفر میں بعض ارکانِ پارلیمان نے بحث کے دوران کہا کہ ایسے واقعات ان لوگوں کے ساتھ پیش آتے ہیں جو نقل مکانی کر کے دیگر شہروں میں جاتے ہیں اور مزدوری کر کے اپنی روزی روٹی کماتے ہیں۔ عام طور پر پولیس بھی ان کے ساتھ تفریق برتتی ہے اور ان کے معاملات کو نظر انداز کر دیتی ہے۔ لہذا حکام کو جوابدہ بنانے کے لیے ایک ایسا نظام بنانے کی ضرورت ہے جس کی مدد سے اس قسم کے واقعات کی نگرانی اور احتسابی عمل کو مستحکم بنایا جا سکے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد