نوئیڈا: ملزمان کے ریمانڈ میں توسیع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلی کے نواحی شہر نوئیڈا میں سترہ بچوں اور عورتوں کے قتل میں ملوث اہم ملزمان کے پولیس ریمانڈ کی مدت بارہ جنوری تک بڑھا دی گئی ہے۔ گزشتہ روز نوئیڈا کیس کے اہم ملزمان منندر سنگھ پنڈرھار اور سرندر کوہلی کے ’تجزیاتی ٹیسٹ‘ اور ’جھوٹ پکڑنے والے ٹیسٹ‘ گجرات کے شہر احمد آباد میں مکمل کر لیے گئے تھے۔ ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد انہیں نوئیڈا کے لیے روانہ کیا جانا تھا لیکن سرکاری وکیل نے نوئیڈا کی ایک عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے احمدآباد میں بعض ٹیسٹ کیے گئے ہیں لیکن وہ ابھی نوئیڈا نہیں پہنچے ہیں۔ ملزمان کو بدھ کو نوئیڈا کی عدالت میں پیش نہیں کیا جاسکا۔ عدالت نے ملزمان کی پولیس ریمانڈ کی مدت ان کی غیر موجودگی میں بڑھائی ہے۔
نوائیڈہ کے سیکٹر 31 میں انسانی ڈھانچوں کی برآمدگی کے بعد پولیس نے منندر سنگھ پنڈھار اور سرنندر کوہلی کو قتل، ریپ اور اغواء کے کیس میں گرفتار کیا تھا۔ بدھ کو ان کے ریمانڈ کے مدت ختم ہوگئی تھی۔ دریں اثنا نوئیڈا کی بار ایسوسی ایشن نے ملزمان کا دفاع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہےکہ ملزمان نے ایسا جرم کیا ہے جس کا دفاع نہیں کیا جاسکتا۔ بار ایسوسی ایشن کے اس فیصلے کے بعد یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ کسی بھی دوسرے شہری کی طرح نوئیڈا کیس کے ملزمان کو بھی عدالت کے سامنے اپنا دفاع کرنے کا حق ہے۔ منگل کو ملزم مونندر سنگھ کا ’نار کو انیلسز ٹیسٹ‘ کیا گیا جو چھ گھنٹے تک جاری رہا جبکہ پیر کو دوسرے ملزم سریندر کوہلی کے ٹیسٹ انجام دیے گئے تھے۔ معائنے کا یہ عمل پانچ دن تک جاری رہا اور اس دوران ملزمان کے طبی معائنے کے علاوہ ان پر ’نارکو انیلسز‘، ’برین میپنگ‘ اور ’پولی گرافک ٹیسٹ‘ بھی کیے گئے۔
لیبارٹری کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جے ایم ویاس نے بتایا تھا کہ بدھ کو ان دونوں ملزمان کا دوبارہ طبی معائنہ کیا جائےگا جس کے بعد ہی انہیں نوئیڈا منتقل کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملزمان نے ٹیسٹوں کے دوران تعاون کیا۔ لیبارٹری کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس ایل وایا کے مطابق انہیں امید ہے کہ ٹیسٹوں کے دوران حاصل کردہ معلومات سے ان کی ٹیم کسی نتیجے پر پہنچے میں کامیاب ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ معائنے کے دوران تفتیشی ایجنسی کے ساتھ ساتھ ملزمان کے نقطۂ نظر کو بھی پوری اہمیت دی گئی۔ نتائج کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ٹیسٹ سے حاصل کردہ مکمل معلومات سے نتائج اخذ کرنے میں ابھی کئی روز لگیں گے۔ اس قسم کے ٹیسٹوں کے نتائج کو بھارتی قانون بطور ثبوت منظور نہیں کرتا تاہم اس قسم کے ٹیسٹ تحقیقات میں مدد کے لیے کیے جاتے ہیں۔ دلی سے متصل نوئیڈا کی مختلف جگہوں سے دسمبر میں عورتوں اور بچوں کی ہڈیوں کے ڈھانچے برآمد ہوئے تھے۔ نتھاڑی گاؤں سےگزشتہ 21 مہینوں میں 3 سے 11 سال کی عمر کے تقریبا تیس بچے لاپتہ ہیں۔ | اسی بارے میں نوئیڈا کیس: ملزمان کے ٹیسٹ مکمل09 January, 2007 | انڈیا نوئیڈا سے پندرہ کھوپڑیاں برآمد29 December, 2006 | انڈیا ملائم سی بی آئی کی تفتیش پر راضی05 January, 2007 | انڈیا نوئیڈامعاملہ: پولیس اہلکار برخاست04 January, 2007 | انڈیا نوئیڈا : سی بی آئی سے انکوائری نہیں03 January, 2007 | انڈیا انسانی ڈھانچے، سکیورٹی سخت31 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||