نوئیڈا کیس: ملزمان کے ٹیسٹ مکمل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلی کے نواحی شہر نوئیڈا میں سترہ بچوں اور عورتوں کے قتل میں ملوث اہم ملزمان میں سے ایک مونندر سنگھ کے نفسیاتی ٹیسٹ کی تکمیل کے ساتھ ہی دونوں ملزمان کے’فورنزیک اینالسز‘ کا عمل مکمل ہو گیا ہے۔ منگل کو ملزم مونندر سنگھ کا ’نارکو اینالسز‘ ٹیسٹ کیا گیا جو چھ گھنٹے تک جاری رہا جبکہ پیر کو دوسرے ملزم سریندر کوہلی کے ٹیسٹ انجام دیے گئے تھے۔ معائنے کا یہ عمل پانچ دن تک جاری رہا اور اس دوران ملزمان کے طبی معائنے کے علاوہ ان پر ’نارکو اینالسز‘، ’برین میپنگ‘ اور ’پولی گرافک ٹیسٹ‘ بھی کیے گئے۔ لیبارٹری کے ڈائریکٹر ڈاکٹر جے ایم ویاس کے مطابق بدھ کو ان دونوں ملزمان کا دوبارہ طبی معائنہ کیا جائےگا جس کے بعد ہی انہیں نوئیڈا منتقل کرنے کی اجازت دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملزمان نے ٹیسٹوں کے دوران تعاون کیا۔ لیبارٹری کے ڈپٹی ڈائریکٹر ڈاکٹر ایس ایل وایا کے مطابق انہیں امید ہے کہ ٹیسٹوں کے دوران حاصل کردہ معلومات سے ان کی ٹیم کسی نتیجے پر پہنچے میں کامیاب ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ معائنے کے دوران تفتیشی ایجنسی کے ساتھ ساتھ ملزمان کے نقطۂ نظر کو بھی پوری اہمیت دی گئی۔ نتائج کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ ٹیسٹ سے حاصل کردہ مکمل معلومات سے نتائج اخذ کرنے میں ابھی کئی روز لگيں گے۔ اس قسم کے ٹیسٹوں کے نتائج کو بھارتی قانون بطور ثبوت منظور نہیں کرتا تاہم اس قسم کے ٹیسٹ تحقیقات میں مدد کے لیے کیے جاتے ہیں۔ دریں اثناء نٹھاری کے رہائشیوں نے منگل کو مونندر سنگھ پنڈہار کے بنگلے کے پیچھے ایک نالے سے مزید ہڈیاں ملنے کی اطلاع پولیس کو دی ہے۔ خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق نالے سے پولیس کو پیر کی ایک ہڈی برآمد ہوئی تھی جسے ’فورینزک‘ ٹیسٹ کے لیے بھیج دیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں ملائم سی بی آئی کی تفتیش پر راضی05 January, 2007 | انڈیا نوئیڈامعاملہ: پولیس اہلکار برخاست04 January, 2007 | انڈیا نوئیڈا : سی بی آئی سے انکوائری نہیں03 January, 2007 | انڈیا انسانی ڈھانچے، سکیورٹی سخت31 December, 2006 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||