نٹھاری:قتل کے ملزموں پر حملہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دلی کے نواحی شہر غازی آباد میں نٹھاری کے بچوں کے قتل کے ملزم مونندر سنگھ پندھیر اور سریندر کولی پر ایک ہجوم نے حملہ کردیا ہے۔ سی بی آئی کے ایک ترجمان نے بتایا کہ جمرات کی صبح سی بی آئی کے اہلکار پولیس کے سخت پہرے میں مونندر سنگھ پندھیر اور ان کے ملازم سریندر کو پیشی کے لیے خصوصی عدالت میں لے کرگئے تھے کہ عدالت کے باہر سینکڑوں لوگوں کے مشتعل ہجوم نے دونوں ملزموں پر اچانک حملہ کر دیا۔ پٹائی سے ملزم مونندر سنگھ بیہوش ہوگئے۔ حملہ کرنے والوں میں کئی وکیل بھی شامل تھے۔ مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس کوطاقت کا استعمال کرنا پڑا ۔ حملے سے مونندر سنگھ کو پورے جسم پر چوٹیں آئی ہیں۔ ہجوم نے ان کے سر کے بال اکھاڑ لیے اور ان کی مونچھیں بھی نوچنے کی کوشش کی گئی۔ انہیں بیہوشی کی حالت میں اسپتال داخل کرایا گيا ہے۔ مرکزی وزار ت داخلہ نے اس واقعہ پرشدید تشویش ظاہر کی ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ اس طرح کی لاقانونیت ناقابل قبول ہے۔ سی بی آئی کے اعلیٰ اہکار اس واقعے کے فورا بعد سی بی آئی کی خصوصی عدالت پہنچ گئے۔ اس سے پہلے سی بی آئی نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ دونوں ملزموں سے پوچھ گچھ کے لیے انہیں مزید پندرہ دنوں کی تحویل میں دیا جائے۔ مونیندر اور سریندر پر بیس سے زیادہ بچوں اور عورتوں کے قتل کا الزام ہے۔ ابھی یہ معاملہ تفتیش کے ابتدائی مراحل میں ہے۔ | اسی بارے میں نوئیڈا کیس: حکام، پولیس پر نکتہ چینی17 January, 2007 | انڈیا نوئیڈا معاملہ پیچیدہ ہوتا جارہا ہے16 January, 2007 | انڈیا مزید ڈھانچوں کی برآمدگی14 January, 2007 | انڈیا ڈھانچوں سے بھرے40 تھیلے برآمد 15 January, 2007 | انڈیا نٹھاری قتل: ملزم کے بنگلے کا معائنہ12 January, 2007 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||