BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 February, 2007, 15:26 GMT 20:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’33 لاشوں کی شناخت ہوگئی‘
پولیس دو مشتبہ افراد کے خاکے پہلے ہی جاری کر چکی ہے
انڈیا میں حکام کا کہنا ہے کہ انہوں نے سمجھوتہ ایکسپریس پر بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والے اڑسٹھ افراد میں سے تینتیس افراد کی شناخت کر لی گئی ہے۔

گزشتہ اتوار کی رات ٹرین میں بم دھماکے کے اس واقعے میں کل 68 افراد ہلاک ہوگے تھے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نوتیج سرنا کا کہنا ہے ’جن تینتیس افراد کی شناخت کی گئي ہے ان میں ستائیس افراد پاکستانی شہری ہیں۔ ان میں سے اکیس پاکستانی لاشوں کو ان کے رشتے داروں کے حوالے کر دیا گیا ہے‘۔

مسٹر سرنا نے کہا کہ ’پاکستانی ائر فورس کا طیارہ میڈیکل ٹیم کے ساتھ دِلّی ہوائی اڈے پر پہنچ چکا ہے اور اس طیارے سے سات پاکستانی زخمی اسلام آباد کے لیے روانہ ہونگے‘۔

تین پاکستانی زخمی رانا شوکت، رخسانہ اور عکساں واہگہ کے راستے پاکستان جائیں گے۔

پیر کے روز دِلی کے صفدر جنگ ہسپتال میں گیارہ پاکستانی زخمیوں کو داخل کرایا گیا تھا جن میں سے ایک زخموں کی تاب نہ لاکردم توڑ دیا تھا۔
مسٹر سرنا نے یہ بھی کہا کہ ہندوستان کو امید ہے کہ معاملے کی تحقیقات کرنے میں پاکستان اس کی پوری مدد کرے گا۔

اس سے پہلے پولیس نے بتایا تھا کہ بم حملے کے سلسلے میں انہوں نے تین افراد کو حراست میں لیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ تینوں مشتبہ افراد کو پریانہ پولیس کی اطلاع پر ریاست راجستھان کے ضلع بیکانیر سےگرفتار کیا گیا ہے جس کی سرحد پاکستان سے ملتی ہے۔ ان میں ایک عورت بھی شامل ہے۔ پولیس ان تینوں سے پوچھ گچھ کر رہی ہے لیکن ابھی تک تفصیل سامنے نہیں آئی۔

گزشتہ روز پاکستان اور انڈیا کے وزرائے خارجہ کے درمیان باضابطہ ملاقات میں جوہری حادثات سے بچنے کے معاہدے پر دستخط ہوئے تھے لیکن ہندوستان نے ٹرین سانحہ کی مشترکہ تحقیقات کرنے سے انکار کیا تھا۔

البتہ ہندوستان کا کہنا ہے کہ وہ اس واقعے کی تحقیقات سے پاکستان کو آگاہ رکھے گا۔ پاکستان نے بھارت سے درخواست کی تھی کہ وہ اسے تحقیقات میں پیش رفت سے آگاہ کرے۔

پولیس پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ اس نے مٹی کے تیل سے بھری چودہ بوتلیں، اور پلاسٹک کا بنا ہوا ڈیجیٹل ٹائمر بھی اس مقام سے قبضے میں کیا ہے جہاں ٹرین میں دھماکے ہوئے تھے۔

شہزاداپنوں کی تلاش
متاثرین کے رشتہ داروں کی پاکستان سے آمد
میمن نساء’بابو کی تصویر لا دو‘
ٹرین دھماکوں کے شکار خاندان کی فریادی ماں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد