کشتی ڈوبنے سے اٹھارہ بچے ہلاک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کی ریاست کیرالہ میں سکول کی طرف سے تفریحی دورے پر گئے ہوئے بچوں کی کشتی ڈوبنے سے اٹھارہ بچے اور چار اساتذہ ہلاک ہوگئے ہیں۔ امدادی کارکنوں نے بدھ کی صبح تک پندرہ بچوں اور تین دیگر افراد کی لاشیں ارنا کلم میں واقع دریا سے نکال لی ہیں جبکہ باقی لاشوں کی تلاش جاری ہے۔ اکثر بچوں کی عمریں گیارہ برس تک کی بتائی جاتی ہیں۔ دس بچوں کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ تیرتے ہوئے دریا کے کنارے تک آگئے۔ سکول کی طرف سے چالیس کے قریب بچوں کو تفریحی دورے پر دریا کی سیر کے لیے بھیجا گیا تھا۔ کیرالہ میں ایک اعلیٰ اہلکار نے بتایا کہ کشی چلانے والوں اور ناؤ کے مالکان نے قواعد کی خلاف ورزی کی جس کے باعث یہ حادثہ پیش آیا۔ قانونی طور پر اس علاقے میں چلنے والی کشتیوں پر دس سے کم افراد سوار کیے جا سکتے ہیں لیکن ڈوبنے والی کشتی میں سوار افراد کی تعداد تین گنا زیادہ بتائی گئی ہے۔ جس کشتی پر سوار بچے ڈوبے اسے مرمت کی ضرورت تھی اور اہلکاروں کے مطابق اس میں پانی بھر آیا تھا۔ سکول کے اساتذہ اور بچے تین کشتیوں پر سوار ہوئے تھے اور یہ کشتی کوچی شہر سے تقریباً چونتیس میل دور مشرق میں دریا میں ڈوبی۔ ایک مقامی اہکار محمد حنیش نے بتایا کہ ڈوب کر ہلاک ہونے والوں کی کل تعداد بائیس ہے اور ان میں چار اساتذہ بھی شامل ہیں۔ لاشوں کو دریا سے نکالنے کے لیے کوچی کے بحری اڈے سے فوج کے غوطہ غوروں کو طلب کیا گیا۔ لاشوں کی تلاش کا کام رات بھر جاری رہا۔ | اسی بارے میں سرینگر: تائیوانی سیاح کی لاش برآمد08 April, 2006 | انڈیا زندہ بچنے والوں کی تلاش ختم 31 October, 2005 | انڈیا ٹرین حادثہ: فوجی غوطہ خور طلب30 October, 2005 | انڈیا ’میرٹھ: مرنےوالوں کی تعداد 31 ہے‘12 April, 2006 | انڈیا انڈین فضائیہ کے دو پائلٹ ہلاک18 March, 2006 | انڈیا کشمیر بس حادثہ، پچاس افراد ہلاک20 January, 2006 | انڈیا ٹریفک حادثہ: 22 ہلاک، 6 زخمی 28 December, 2005 | انڈیا پل ٹوٹ گیا،33 ہلاکتوں کا خدشہ09 September, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||