پولیس: مبینہ بدسلوکی پرتحقیقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان کے وزیراعظم من موہن سنگھ نے ایک مسلمان خاتون اور اس کے سسر کے ساتھ ممبئی بم دھماکوں کی تحقیقات کرنے والے پولیس افسران کی مبینہ بدسلوکی کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ مسلمان خاتون اور اس کے سسر نے انسداد دہشت گردی کے عملے کے خلاف مبینہ زیادتی کا الزام عائد کیا ہے۔ رفاہ راحیل اور عطاء الرحمن شیخ کا کہنا ہے کہ گیارہ جولائی کو ممبئی ٹرین بم دھماکوں کے الزام میں پولیس نے ان کے دو بیٹوں فیصل اور مزمل کوگرفتار کیا ہے اور تفتیش کے سلسلے میں پولیس نے سسر اور بہو دونوں کو پولیس سٹیشن میں طلب کیا جہاں ان کی مبینہ بے عزتی کی گئی۔ پولیس کے اس مبینہ ظلم کی کہانی انڈیا کے وزیراعظم منموہن سنگھ تک ممبر پارلیمنٹ ابو عاصم اعظمی کے ذریعے پہنچی جس کے بعد وزیراعظم کے سیکرٹری جاوید عثمانی اس کیس کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ انہوں نے شیخ اور ان کی بہو کے بیانات قلمبند کر لیے ہیں۔ ایڈوکیٹ شاہد اعظمی کے پاس شیخ اور ان کی بہو نے پولیس زیادتی کے حلفیہ بیان ریکارڈ کرائے ہیں اور وہ فیصل اور مزمل کا کیس لڑنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ شاہد کے مطابق اب اس کیس میں وزیراعظم کی مداخلت اور تحقیقات کی وجہ سے پولیس نے شیخ یا ان کے گھر کے کسی بھی فرد کو حراست میں نہیں لیا ہے لیکن بار بار فون کر کے پریشان کرنے کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔ شاہد اعظمی کا کہنا ہے کہ پولیس نےگیارہ جولائی کے بم دھماکوں کی تحقیقات میں حقوق انسانی کے قوانین کو پامال کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شک و شبہ کی بناء پر پولیس نے تین اگست کو پٹنہ کے علاقے پھلواری شریف میں ضیاء الدین انصاری کوپکڑا اور انہیں ممبئی لایا گیا جہاں انہیں پندرہ دنوں تک حراست میں رکھنے کے بعد واپس بھیج دیا کیونکہ پولیس کے پاس ان کے خلاف ثبوت ہی نہیں تھے۔ شاہد کا کہنا ہے کہ عطاء الرحمن شیخ یا ضیاءالدین ہی نہیں ایسے اس وقت درجنوں کیس ہیں جن میں پولیس بغیر کسی ثبوت کے لوگوں کو ہفتوں حراست میں رکھ رہی ہے لیکن لوگ اتنے خوفزدہ ہیں کہ پولیس کے خلاف شکایت تک کرنے سے ڈر رہے ہیں۔
پردہ نشین رفاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ گیارہ اگست کو انہیں کرلا کی اے ٹی ایس پولیس نے طلب کیا۔ وہاں پولیس انہیں اندر کمرے میں لے گئی جہاں ان کے جیٹھ فیصل اور دیور مزمل تھے ان کے ہاتھ ہتھکڑیوں سے بندھے ہوئے تھے۔ ان کے سامنے پولیس نے انہیں جبری برقع اتارنے کا حکم دیا۔ رفاہ کے مطابق وہ رونے اور گڑگڑانے لگیں اورجب انہوں نے برقع اتارنے سے انکار کیا تو پولیس نے جیٹھ اور دیور کو اذیت دے کر ختم کرنے کی دھمکی دی۔ رفاہ کا کہنا ہے کہ اس خوف سے انہوں نے برقع اتار دیا جس کے بعد پولیس نے ان کا برقع پیروں تلے روندا اور ان کے جیٹھ اور دیور سے کہا کہ’یہ تمہاری عزت ہے جو ہم نے اتار دی ہے اگر تم ہماری بات نہیں مانو گے تو ہم اس کے پورے کپڑے اتار دیں گے‘۔ فیصل اور مزمل کے والد عطاء الرحمن شیخ کا ایک بیٹا راحیل اس وقت لندن کی ایک فرم میں ملازم ہے اور رفاہ اسی کی بیوی ہیں۔ شیخ نے اے ٹی ایس کے عملے کی مبینہ زیادتیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ بیس جولائی کی رات ساڑھے نو بجے پولیس نے ان کے گھر سے تین ذاتی کمپیوٹر لے گئی اور انہیں بھی گھسیٹتے ہوئے سات راستہ پر واقع اے ٹی اسی کے دفتر لائے۔ جہاں انہیں سات دن تک حراست میں رکھا گیا۔ اس دوران اکثر وہ ان کے کپڑے اتار لیتے تھے۔ کھانا نہیں دیا جاتا تھا۔ پھر اچانک ایک روز انہیں رہا کر دیا۔ عطاء الرحمن شیخ کا کہنا ہے کہ بارہ اگست کو انہیں ان کے بیٹوں کے سامنے مکمل طور پر برہنہ کر کے پریڈ کرائی گئی اور دھمکی دی گئی کہ اگر اب بھی ان کے بیٹوں نے زبان نہیں کھولی تو اس سے برا انجام ہوگا۔ پولیس نے یہاں بھی انہیں سات دن تک حراست میں رکھا اور بعد میں دھمکی دے کر رہا کر دیا۔ شیخ کا کہنا ہے کہ اس طرح ذہنی اذیتیں دے کر پولیس ان کے بیٹوں کو جھوٹ بولنے پر مجبور کر رہی ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ شاید ان کے بیٹے باپ اور بھابھی کی بےعزتی کے ڈر سے پولیس کے کسی جھوٹے بیان پر دستخط نہ کردیں۔ انڈیا کے قانون کے مطابق پولیس بغیر وارنٹ یا مجسٹریٹ کی خصوصی اجازت کے کسی بھی شخص کو چوبیس گھنٹوں سے زیادہ حراست میں نہیں رکھ سکتی۔ |
اسی بارے میں پارلیمنٹ بم افواہ، سولہ مسلمان گرفتار17 December, 2005 | انڈیا ایک سومسلمانوں پر قتل کا مقدمہ07 July, 2006 | انڈیا ’مسلمانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے‘18 August, 2006 | انڈیا ’مسلمانوں کے درد کو سمجھتا ہوں‘22 August, 2006 | انڈیا ’مسلمان گجرات سے سبق سیکھیں‘30 August, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||