وزیراعظم کے خلاف نوٹِس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندوستان میں ایک تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ لیک ہونے پر حزب اختلاف کی جماعتیں وزیراعظم منموہن سنگھ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ سابق وزيرخارجہ نٹور سنگھ اور حزب اختلاف کے رہنماؤں نے پارلیمنٹ میں وزیراعظم منموہن سنگھ کے خلاف مراعات شکنی کا نوٹس دیا ہے اب وہ اس پر بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ مسٹر سنگھ نے الزام لگایا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پارلیمنٹ ميں پیش کیے جانے سے قبل ہی وزیراعظم نے اسے لیک کیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’مسٹر سنگھ نے تیل کا ٹھیکہ دلانے میں اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کیا اور اس میں مدد کی۔ تاہم ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ مسٹر سنگھ نے ذاتی طور پر کوئی فائدہ اٹھایا ہو۔‘
تاہم پیر کے روز پارلیمنٹ میں پیش کی گئی پاٹھک تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں کانگریس کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔ مسٹر سنگھ نے وزیراعظم کے خلاف مراعات شکنی کا نوٹس دینے کے بارے ميں کہا کہ ’اس میں ذاتی طور پر منموہن سنگھ کے خلاف کوئی پہلو نہیں ہے، میں نے یہ نوٹس وزیراعظم کے خلاف دیا ہے کیوں کہ تحقیقاتی رپورٹ وہيں سے لیک ہوئی ہے۔‘ حزب اختلاف کی جماعتیں مراعات شکنی کے نوٹس پر فورا بحث کا مطالبہ کر رہی تھیں لیکن دونوں ایوانوں میں انہیں اجازت نہیں ملی تو انہوں نے دن بھر پارلیمنٹ میں کارروائی نہیں چلنے دی۔ حکمراں کانگریس کے رہنما اور پارلیمانی ترجمان پریہ رنجن داس منشی کا کہنا تھا کہ ’مراعات شکنی کے نوٹس زیر بحث ہیں اور اگر اس مرحلے پر میں نے رپورٹ افشاں ہونے کے بارے میں کسی طرح کا کوئی بیان دیا تو یہ نوٹس کو متاثر کرنے کے مترادف ہوگا۔‘ کانگریس اب سابق وزیرخارجہ نٹور سنگھ کے خلاف تادیبی کارروائی کی تیاریاں کر رہی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ مسٹر سنگھ بھی کانگریس سے اپنی پچاس برس سے زيادہ کی وابستگی ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے اتوار سے ہی حزب اختلاف کے رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کر دیں ہيں۔ | اسی بارے میں نٹور سنگھ وزارتِ خارجہ سے محروم 07 November, 2005 | انڈیا نئے بیانات، نٹور پر دباؤ بڑھ گیا 04 December, 2005 | انڈیا نٹور سنگھ کی استعفیٰ کی پیشکش05 December, 2005 | انڈیا نٹور سنگھ مستعفی، الزامات سے انکار06 December, 2005 | انڈیا وولکر رپورٹ پر ہنگامہ جاری 06 December, 2005 | انڈیا نٹور سنگھ پارٹی بغاوت پرتیار06 August, 2006 | انڈیا وزارت خارجہ منموہن کے پاس18 November, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||