BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 07 August, 2006, 14:42 GMT 19:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
وزیراعظم کے خلاف نوٹِس

نٹورسنگھ اب شاید کانگریس چھوڑنے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں
ہندوستان میں ایک تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ لیک ہونے پر حزب اختلاف کی جماعتیں وزیراعظم منموہن سنگھ سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

سابق وزيرخارجہ نٹور سنگھ اور حزب اختلاف کے رہنماؤں نے پارلیمنٹ میں وزیراعظم منموہن سنگھ کے خلاف مراعات شکنی کا نوٹس دیا ہے اب وہ اس پر بحث کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

مسٹر سنگھ نے الزام لگایا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پارلیمنٹ ميں پیش کیے جانے سے قبل ہی وزیراعظم نے اسے لیک کیا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’مسٹر سنگھ نے تیل کا ٹھیکہ دلانے میں اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کیا اور اس میں مدد کی۔ تاہم ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ مسٹر سنگھ نے ذاتی طور پر کوئی فائدہ اٹھایا ہو۔‘

نٹور سنگھ اور رپورٹ
 مسٹر سنگھ نے تیل کا ٹھیکہ دلانے میں اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کیا اور اس میں مدد کی۔ تاہم ایسا کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ مسٹر سنگھ نے ذاتی طور پر کوئی فائدہ اٹھایا ہو۔
اکتوبر دو ہزار پانچ میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ معزول صدر صدام حسین کے دور اقتدار میں دو ہزار سے زیادہ کمپنیوں نے ٹھیکے حاصل کرنے کے لیے وہاں کی حکومت کو رشوت دی اور مالی فائدہ اٹھایا۔ مالی فائدہ اٹھانے والوں میں مسٹر سنگھ اور کانگریس پارٹی کا نام بھی شامل تھا۔

تاہم پیر کے روز پارلیمنٹ میں پیش کی گئی پاٹھک تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں کانگریس کو تمام الزامات سے بری کر دیا گیا ہے۔

مسٹر سنگھ نے وزیراعظم کے خلاف مراعات شکنی کا نوٹس دینے کے بارے ميں کہا کہ ’اس میں ذاتی طور پر منموہن سنگھ کے خلاف کوئی پہلو نہیں ہے، میں نے یہ نوٹس وزیراعظم کے خلاف دیا ہے کیوں کہ تحقیقاتی رپورٹ وہيں سے لیک ہوئی ہے۔‘

حزب اختلاف کی جماعتیں مراعات شکنی کے نوٹس پر فورا بحث کا مطالبہ کر رہی تھیں لیکن دونوں ایوانوں میں انہیں اجازت نہیں ملی تو انہوں نے دن بھر پارلیمنٹ میں کارروائی نہیں چلنے دی۔

حکمراں کانگریس کے رہنما اور پارلیمانی ترجمان پریہ رنجن داس منشی کا کہنا تھا کہ ’مراعات شکنی کے نوٹس زیر بحث ہیں اور اگر اس مرحلے پر میں نے رپورٹ افشاں ہونے کے بارے میں کسی طرح کا کوئی بیان دیا تو یہ نوٹس کو متاثر کرنے کے مترادف ہوگا۔‘

کانگریس اب سابق وزیرخارجہ نٹور سنگھ کے خلاف تادیبی کارروائی کی تیاریاں کر رہی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ مسٹر سنگھ بھی کانگریس سے اپنی پچاس برس سے زيادہ کی وابستگی ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے اتوار سے ہی حزب اختلاف کے رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع کر دیں ہيں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد