نٹور سنگھ مستعفی، الزامات سے انکار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے سابق وزیرِ خارجہ نٹور سنگھ نے مرکزی کابینہ سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت اور پارلیمان فرد واحد سے زیادہ اہم ہے۔ انہوں نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ حزب اختلاف ان کے خلاف لگے الزامات کو بہانہ بنا کر پارلیمان کی کارروائی کو متاثر کرے۔ نٹور سنگھ کے خلاف اقوام متحدہ کے عراق کے لیے خوراک برائے تیل پروگرام کے تحت ناجائز فائدہ اٹھانے کے الزامات لگائے گئے تھے۔ یہ الزامات وولکر کمیشن کی رپورٹ میں لگائے گئے ہیں۔ نٹور سنگھ کو وولکر کمیشن کی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد وزارت خارجہ عہدے سے ایک مہینے پہلے ہٹا دیا گیا تھا لیکن وہ بدستور کابینہ کے ممبر تھے۔ بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ نے روس کے دورے کے دوران کہا تھا کہ اگر نٹور سنگھ خود استعفیٰ دیں تو اس کو قبول کرنے پر غور کریں گے۔ وولکر رپورٹ کے بعد نٹور سنگھ نے وزیر اعظم سے ٹیلی فون پر بات کی تھی اور اس کے علاوہ انہوں نے کانگرس کی صدر سونیا گاندھی سے بھی ملاقات کی تھی۔ وولکر رپورٹ میں نٹور سنگھ پر عراق میں تیل برائے خوراک پروگرام میں فائدہ اٹھانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ بھارتی حزب اختلاف کی جماعتوں نے مطالبہ کیا تھا کہ نٹور سنگھ کو فوری طور پرگرفتار کیا جائے جبکہ وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا تھا کہ اس معاملے میں قصورواروں کو بخشا نہیں جائے گا۔ | اسی بارے میں وزارت خارجہ منموہن کے پاس18 November, 2005 | انڈیا تیل منافع والوں کو سزا ملے گی:سونیا15 November, 2005 | انڈیا ’حقائق ناکافی ہیں‘:منموہن سنگھ 30 October, 2005 | انڈیا نٹور سنگھ وزارتِ خارجہ سے محروم 07 November, 2005 | انڈیا قصوری کی نٹور سنگھ سے بات چیت02 November, 2005 | انڈیا نٹور سنگھ پاکستان کے دورے پر02 October, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||