BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 06 August, 2006, 15:39 GMT 20:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نٹور سنگھ پارٹی بغاوت پرتیار

نٹور سنگھ سماجوادی پارٹی میں شامل ہونے کے سوچ رہے ہیں۔
ہندوستان کے سابق وزیر خارجہ نٹور سنگھ نے پارٹی کے خلاف بغاوت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ قدم بظاہر انہوں نے سماجوادی پارٹی کی حمایت حاصل ہونے کے بعد اٹھایا ہے جو انہیں پہلے ہی اپنی پارٹی میں شامل ہونے کا اشارہ دے چکے ہیں۔

اس سلسلے میں اتوار کو سماجوادی پارٹی کے رہنماؤں امر سنگھ نے سابق وزیر خارجہ نٹور سنگھ سے ملاقات کی۔امر سنگھ اپنی پارٹی کے سربراہ ملائم سنگھ یادو کے علاوہ اے آئی ڈی ایم کے کی سربراہ جے للیتا اور ٹی ڈی پی کے سربراہ چندر بابو نائیڈو کے پیغام کے ساتھ نٹور سنگھ سے ملاقات کی۔

ملاقات کے بعد مسٹر سنگھ نے اس پورے معاملے کو نٹور سنگھ کےخلاف ایک سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ کل پارلیمنٹ میں وزير اعظم کے خلاف تحریک استحقاق کا نوٹس دیا جائے گا ۔

مسٹر سنگھ نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم حکومت کے سربراہ ہیں اور اگر ان کا دفتر کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کے ذمےدار بھی وہی ہوں گے۔

تحقیات کے سلسلے میں حکومت اپنی رپورٹ پیر کو پارلمینٹ میں پیش کرنے والی ہے۔ نٹور سنگھ نے کہا کہ وہ کوئی بھی قدم پارلیمنٹ میں پیش ہونے کے بعد ہی اٹھائيں گے۔

عراق میں تیل کے بدلے خوراک پروگرام کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ میں سابق وزير اعظم نٹور سنگھ اور کانگریس پارٹی سمیت ہندوستان کی تقریباً سوا سو کمپنیوں کے نام سامنے آئے تھے جن پر غلط طریقے سے مالی لین دین کے الزمات عائد کیے گئے تھے۔

وولکر کمیٹی کی رپورٹ کی بنیاد پر بی جے پی سمیت حزب اختلاف کی کئی جماعتوں نے کانگریس اور نٹور سنگھ کے خلاف زبردست آواز اٹھائی تھی۔

حکومت نے اسکی تحقیق کے لیئے جسٹس پاٹھک پر مشتمل ایک رکنی کمیٹی بنائی تھی اور نٹور سنگھ نے وزارت خارجہ کے عہدے سے استعفٰی دے دیا تھا۔

دو روز قبل جسٹس پاٹھک کی یہ رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی گئی تھی لیکن پارلیمنٹ میں پیش ہونے سے پہلے ہی اسکی تفصیلات میڈیا میں عام ہوگئی۔

اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بھی زبردست ہنگامہ آرائی ہوئی۔حزب اختلاف نے الزام عائد کیا کہ وزیراعظم کے دفتر نے اسے پارلیمنٹ میں پیش کرنے سے پہلے ہی لیک کردیا۔

پیر کو جب پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہوگا تو حکومت کو حزب اختلاف کی طرف سے ہی نہیں خود اپنے ہی ایک سینئر رہمنا کے بہت سے سوالات کا جواب دینا ہوگا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد