BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 July, 2006, 15:27 GMT 20:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جسونت کے خط میں کچھ نیا نہیں‘
منموہن سنگھ
’خط میں مشتبہ شخص کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے‘
انڈیا کے وزیرِاعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کیئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جسونت سنگھ نے اپنے خط میں اس مشتبہ شخص کا نام نہیں لکھا ہے جس کے بارے میں انہوں نے اپنی کتاب میں نرسمہا راؤ کے دورِ اقتدار میں جوہری راز چوری کرنے کی بات کہی ہے۔

اسی سلسلے میں سابق وزیرِ خارجہ جسونت سنگھ نے ہفتے کو ذرائع ابلاغ کو
بتایا تھا کہ انہوں نے سابق وزیراعظم نرسمہا راؤ کے اقتدار میں جوہری راز چوری کرنے والے شخص کے بارے میں تمام تفصیلات وزیراعظم منموہن سنگھ کو دے دی ہيں۔

اتوار کو اس خط پر رد عمل کے طور پر وزيرِا‏عظم منموہن سنگھ کے بیان کو میڈیا معاملات میں وزیراعظم کے مشیر سنجے بارو نے صحافیوں کو پڑھ کر سنایا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ’مسٹر سنگھ کی جانب سے جو خط بھیجا گیا ہے اس میں اور اس خط میں کوئی فرق نہیں ہے جسے مسٹر سنگھ نے ذرائع ابلاغ میں پہلے ہی ظاہر کر دیا تھا۔ اس میں نہ تو مشتبہ شخص کا نام ظاہر کیا گیا ہے اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ اس شخص کا تعلق وزیرِا‏عظم کے دفتر سے تھا‘۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب جسونت سنگھ کو اس شخص کے بارے میں پتہ تھا تو انہوں نے اس وقت کے وزیرِاعظم اٹل بہاری واجپئی کو اس سلسلے میں کیوں نہیں بتایا۔ مسٹر بارو نے بیان میں یہ بھی بتایا کہ خط میں جسونت سنگھ کی جانب سے اصل دستاویزات نہیں دیئےگئے ہیں اور نہ ہی وزیراعظم کو بھیجا گیا خط مسٹر سنگھ کے ’لیٹر ہیڈ‘ پر لکھا گیا ہے۔

بی جے پی کے سینئر رہنما اور سابق وزیرِ خارجہ جسونت سنگھ

حال ہی میں شائع کی گئی جسونت سنگھ کی کتاب ’اے کال ٹو آنر‘ میں انہوں نے لکھا ہے کہ ان کے پاس ایک خط ہے جس میں ساری باتیں بہت تفصیل سے بتائی گئی ہیں۔

خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ممبئی میں جسونت سنگھ نے کہا تھا کہ اس سلسلے میں انہون نے دو مرتبہ وزيراعظم سے ملاقات کی درخواست کی تھی لیکن انہیں کوئی جواب حاصل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ تھا کہ ’جب دو مرتبہ کوئی جواب نہیں آیا تو بالاخر میں نے کسی کا نام ظاہر کیئے بنا تمام تفصیلات ایک خط کے ذریعے وزیراعظم تک پہنچا دی ہیں‘۔

خبر رساں ایجنسوں کے مطابق جسونت سنگھ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ خط گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے وزیراعظم کے پاس ہے اور اب وہ ملک کی بہتری کے مدنظر جو بھی کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے جسونت سنگھ کے اس انکشاف سے ایک تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ نرسمہاراؤ کی حکومت کے ایک اہلکار نے جوہری راز چوری کیے تھے۔وزیراعظم منموہن سنگھ نے بھی جسونت سنگھ کو چیلنج کیا تھا کہ وہ اس اہلکار کا نام بتائیں جو مبینہ طور پر جاسوسی کر رہا تھا جس پر جسونت سنگھ نے کہا تھا کہ وہ جلد ہی وزیراعظم کو اس شخص کا نام بتا دیں گے۔

جوہری معاہدہ
انڈین میڈیا نے محتاط ردعمل کا اظہار کیا ہے
بھارت کا جوہری پروگرام بھارتی ایٹمی پروگرام
فوجی مقاصد کیلیے دو ری ایکٹر
نیوکلیئر پروگرامایٹمی تنہائی کاخاتمہ
امریکہ نےانڈیا کوجوہری طاقت مان لیا
صدر بش بش کا دورہ بھارت
خیر مقدم کے ساتھ مظاہروں کی تیاریاں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد