’جسونت کے خط میں کچھ نیا نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انڈیا کے وزیرِاعظم کے دفتر کی جانب سے جاری کیئے گئے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جسونت سنگھ نے اپنے خط میں اس مشتبہ شخص کا نام نہیں لکھا ہے جس کے بارے میں انہوں نے اپنی کتاب میں نرسمہا راؤ کے دورِ اقتدار میں جوہری راز چوری کرنے کی بات کہی ہے۔ اسی سلسلے میں سابق وزیرِ خارجہ جسونت سنگھ نے ہفتے کو ذرائع ابلاغ کو اتوار کو اس خط پر رد عمل کے طور پر وزيرِاعظم منموہن سنگھ کے بیان کو میڈیا معاملات میں وزیراعظم کے مشیر سنجے بارو نے صحافیوں کو پڑھ کر سنایا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ’مسٹر سنگھ کی جانب سے جو خط بھیجا گیا ہے اس میں اور اس خط میں کوئی فرق نہیں ہے جسے مسٹر سنگھ نے ذرائع ابلاغ میں پہلے ہی ظاہر کر دیا تھا۔ اس میں نہ تو مشتبہ شخص کا نام ظاہر کیا گیا ہے اور نہ ہی یہ بتایا گیا ہے کہ اس شخص کا تعلق وزیرِاعظم کے دفتر سے تھا‘۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب جسونت سنگھ کو اس شخص کے بارے میں پتہ تھا تو انہوں نے اس وقت کے وزیرِاعظم اٹل بہاری واجپئی کو اس سلسلے میں کیوں نہیں بتایا۔ مسٹر بارو نے بیان میں یہ بھی بتایا کہ خط میں جسونت سنگھ کی جانب سے اصل دستاویزات نہیں دیئےگئے ہیں اور نہ ہی وزیراعظم کو بھیجا گیا خط مسٹر سنگھ کے ’لیٹر ہیڈ‘ پر لکھا گیا ہے۔
حال ہی میں شائع کی گئی جسونت سنگھ کی کتاب ’اے کال ٹو آنر‘ میں انہوں نے لکھا ہے کہ ان کے پاس ایک خط ہے جس میں ساری باتیں بہت تفصیل سے بتائی گئی ہیں۔ خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق ممبئی میں جسونت سنگھ نے کہا تھا کہ اس سلسلے میں انہون نے دو مرتبہ وزيراعظم سے ملاقات کی درخواست کی تھی لیکن انہیں کوئی جواب حاصل نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ تھا کہ ’جب دو مرتبہ کوئی جواب نہیں آیا تو بالاخر میں نے کسی کا نام ظاہر کیئے بنا تمام تفصیلات ایک خط کے ذریعے وزیراعظم تک پہنچا دی ہیں‘۔ خبر رساں ایجنسوں کے مطابق جسونت سنگھ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ خط گزشتہ چوبیس گھنٹوں سے وزیراعظم کے پاس ہے اور اب وہ ملک کی بہتری کے مدنظر جو بھی کرنا چاہیں کر سکتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے جسونت سنگھ کے اس انکشاف سے ایک تنازعہ اٹھ کھڑا ہوا تھا کہ نرسمہاراؤ کی حکومت کے ایک اہلکار نے جوہری راز چوری کیے تھے۔وزیراعظم منموہن سنگھ نے بھی جسونت سنگھ کو چیلنج کیا تھا کہ وہ اس اہلکار کا نام بتائیں جو مبینہ طور پر جاسوسی کر رہا تھا جس پر جسونت سنگھ نے کہا تھا کہ وہ جلد ہی وزیراعظم کو اس شخص کا نام بتا دیں گے۔ |
اسی بارے میں جوہری معاہدے میں پیچیدگی18 April, 2006 | انڈیا ’معاہدہ بھارت کے حق میں نہیں‘29 June, 2006 | انڈیا بھارت۔امریکہ معاہدے کی منظوری29 June, 2006 | انڈیا انڈین تنصیبات: عالمی معائنہ کاری08 July, 2006 | انڈیا جوہری معاہدے کیلیئے انڈین اپیل01 April, 2006 | انڈیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||