آسام: سات ہلاکتوں کے بعد کرفیو | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی شمال مشرقی ریاست آسام کے تنسکھیا ضلع میں ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے فائرنگ کر دی جس سے سات افراد ہلاک ہو گئے۔ حالات پر قابو پانے کے لیے علاقے میں غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ پولیس فائرنگ میں احتجاج کرنے والے پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں اور مظاہرین نے بھی ایک جھڑپ میں دو پولیس اہل کاروں کو مارڈالا ہے۔ اطلاعات کے مطابق علاقے میں حالات اب بھی کشیدہ ہیں۔ پولیس افسران کے مطابق ککو پاتھر پولیس اسٹیشن میں اجیت مہنتا نامی ایک شخص کی پولیس حراست میں موت ہوگئی تھی جس کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے لوگ بڑی تعداد میں تھانے کے پاس جمع ہو گئے تھے اور بے قابو ہجوم پولیس اسٹیشن کو جلانے کی کوشش کر رہا تھا۔ پولیس نےاجیت مہنتا کو شدت پسند تنظیم یونائٹیڈ لبریشن فرنٹ آف آسام یعنی ’الفا‘ کے ساتھ مبینہ طور پر روابط کی بنا پر پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لیا تھا لیکن تفتیش کے دوران اس کی موت ہوگئی۔ پولیس حراست میں موت کے خلاف لوگوں میں زبردست غصّہ پایا جاتا ہے۔ پولیس نے پہلے مظاہرین پر آنسو گیس کے گولے پھینکے لیکن جب حالات قابو سے باہر ہوگئے تو گولی چلا دی۔ پولیس فائرنگ سے پانچ لوگ شدید زخمی ہو گئے جو ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی وفات پا گئے۔ پولیس فائرنگ سے بارہ افراد شدید طور پر زخمی ہوئے ہیں۔ حکام کہنا ہے کہ پہلے کرفیو صرف یہ مذکورہ پولیس اسٹیشن کے آس پاس نافذ کیا گیا تھا لیکن جب حالات زیادہ کشیدہ ہوگئے تو تنسکھیا ضلع کے بیشتر علاقوں ميں کرفیو نافذ کیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں تری پورہ: باغی حملہ، آٹھ ہلاک25 September, 2005 | انڈیا آسام: یومِ جمہوریہ سے قبل دھماکے23 January, 2006 | انڈیا آسام:ہندو مسلم کشیدگی، 7 زخمی04 September, 2005 | انڈیا آسام: تشدد، ایف بی آئی کی پیشکش06 October, 2004 | انڈیا آسام میں مزید چھ ہلاکتیں04 October, 2004 | انڈیا بھارت: سیلاب سے مزید 5 افراد ہلاک10 July, 2004 | انڈیا آسام: بی جے پی اور نیا سیاسی دور03 April, 2004 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||