BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 25 January, 2006, 15:39 GMT 20:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اصلی مجرموں پر فلم ’ہٹ لسٹ‘

فلم
فلم کی کہانی چھ کرداروں کے درمیان گھومتی ہے
جرم کی دنیا اور اس سے وابستہ لوگوں پر فلم بنانا بولی وڈ فلمسازوں کا ہمیشہ سے من پسند موضوع رہاہے لیکن جرم کی دنیا کے کرداروں کو لے کر فلم بنانا ایک نیا تجربہ ہے۔

نبھ کمار راجو فلم ’ہٹ لسٹ‘ بنا رہے ہیں۔ اس منفرد خیال کے ساتھ انہوں نے سکرین ٹیسٹ کے لیے آئے امیدواروں سے صرف ایک سوال پوچھا کہ کیا وہ کسی نہ کسی طرح جرم کی دنیا سے جڑے ہوئے ہیں؟۔

فلم میں چھ کردار ہیں اور ان تمام کردار کا جرم سے تعلق رہا ہے۔ اس فلم میں ایشیا کی سب سے بڑی جھوپڑ پٹی ’دھاراوی‘ میں رہنے والا امیت شیو داس کو ’بھائی شنکر انا‘ کردار ادا کرنے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

فلم کے ہدایت کار نبھ کمار راجو کا کہنا ہے کہ سکرین ٹیسٹ کے دوران امیت نے بتایا تھا کہ ممبئی اور پونے میں آج بھی اس کے خلاف کئی کیس درج ہیں ۔

ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقہ بھنڈی بازار سے ایک معمولی چور اکبر کا بھی انتخاب ہوا ہے جسے فلم میں بھی چور کا ہی کردار نبھانا ہے اور یہ کردار’الیاس دبئی‘ ہے۔

ممبئی کے علاوہ فلم میں بہار اور یوپی کی جرم کی دنیا کے بھی کردار ہیں۔
اترپردیش کے رہنے والے دگ وجے سنگھ فلم میں ایک سیاسی لیڈر کے ’گرگے‘ کا رول کریں گے۔

بھارت میں بہار میں لوگوں کا اغواء اور اس کے بدلے میں رقم کا مطالبہ ایک بڑی صنعت بن کر ابھرا ہے اور فلم میں جرم کی دنیا کے اس تاریک پہلو کو اجاگر کرنے کے لیے بہار کے ہی پنکچ ترپاٹھی اندر ٹھاکر بنیں گے جو ’آئی ٹی‘ کے نام سے بدنام ہیں۔

 بھارت میں بہار میں لوگوں کا اغواء اور اس کے بدلے میں رقم کا مطالبہ ایک بڑی صنعت بن کر ابھرا ہے

ہدایت کار نبھ کمار راجو نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ بہار کی اس اغواء انڈسٹری کا حصہ رہ چکے ہیں۔

دہلی میں معمولی جرائم میں ملوث سکشم دائما فلم میں شارپ شوٹر بنے ہیں۔ راجو کے مطابق دائما نشانہ بازی کےماہر ہیں اور ہرطرح کی گن چلا سکتے ہیں کیونکہ انہوں نےشوٹنگ کی تربیت کالج کے دور میں این سی سی تربیت کے دوران لی تھی۔

فلم میں ایک نیپالی بھی ہے جو منشیات کا کاروبار کرتا ہے اور وہ اسی کام کا ماہر بھی ہے ۔

جرم کی دنیا سے ہی لوگوں کا انتخاب کیوں کیا اس کی کہانی دلچسپ ہے۔

راجو کی مطابق انہیں دو سو کرداروں میں سے چھ کا انتخاب کرنا تھا اور وہ پس و پیش میں تھے پھر انہوں نے امیدواروں سے ایک ہی سوال کیا کہ کیا وہ جرم کی دنیا سے کبھی وابستہ رہ چکے ہیں اور یہ انہوں نے اس لیے کیا کہ وہ کردار کو مجرم بنانے کے بجائے مجرموں کو کردار بنا کر شاید سیدھے راستہ پر چلنے کا ایک موقع دے سکیں۔

راجو کے مطابق فلم کی کہانی ان چھ کرداروں کے گرد گھومتی ہے جو جرم کی دنیا کے بادشاہ ہیں۔

انہوں نے جرم کی اس دنیا کی راہ میں آڑے آنے والوں کو قتل کرنے کے لیے ’ہٹ لسٹ‘ تیار کی ہے اور ان کی اس فہرست میں کئی سیاسی لیڈر اور پولیس افسران ہیں۔

اس فلم میں ایشیا کی سب سے بڑی جھوپڑ پٹی ’دھاراوی‘ میں رہنے والا امیت شیو داس کو ’بھائی شنکر انا‘ کردار ادا کرنے کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

ممبئی میں عرصہ قبل انڈرورلڈ نے ہفتہ نہ دینے پر ایک ٹھیکہ دار مہیش ڈھولکیہ قتل ہوئے تھے اور فلم میں اس قتل کو اسی انداز میں فلمایا گیا ہے۔

راجو نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ جب وہ آسوتوش رانا کو لے کر فلم ’چوٹ‘ بنا رہے تھے تبھی ان کے دماغ میں یہ بات آئی تھی کہ وہ انڈرورلڈ پر فلم بنائیں لیکن کوئی ایسا پہلو جسے آج تک پردے پر نہیں لایا جا سکا ہو۔

وہ انٹرنیٹ پر ہر ملک کے جرائم کے بارے میں پڑھ رہے تھے کہ ایک دن انہیں پتہ چلا کہ انڈرورلڈ میں کسی کو مارنے سے مہینوں پہلے منصوبہ تیار کیا جاتا ہے۔
کس طرح انہیں ان کے ٹارگٹ کے اطراف رہنے والے ہی ان کی خبر دیتے ہیں پھر وہ اپنے نشانہ کے روز مرہ کے معمولات پر نظر رکھتے ہیں۔

راجو نے بتایا کہ اس فلم کی شوٹنگ انہوں نے ممبئی سے کچھ دور بھائیندر علاقہ میں ریتی بندر میں کی ہے۔ جہاں یہ چھ کردار چھپ کر کسی بڑی ہستی کو مارنے کا منصوبہ تیار کر رہے ہیں۔

راجو اپنی اس فلم کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جرم کی دنیا کبھی کسی کو کچھ نہیں دیتی۔ چند روپیوں کے لیے جب وہ کسی کا قتل کرتے ہیں یا کسی کی ہٹ لسٹ تیار کرتے ہیں اس وقت ان کا نام بھی کسی کی ہٹ لسٹ میں تیار ہوجاتا ہے یعنی یا تو پولیس یا پھر آپ کسی گینگ۔

راجو نے بتایا کہ انہیں ان نئے اداکاروں کو اداکاری سکھانے کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔ ان کی اداکاری میں بناوٹ نہیں ہے۔ اس فلم کی عکس بندی کے دوران ایک مرتبہ یہ لوگ آپس میں لڑ پڑے تھے اور بری طرح انہوں نے مار پیٹ کی راجو نے اس منظر کو کیمرے میں قید کر لیا ہے۔

 راجو اپنی اس فلم کے ذریعے یہ پیغام دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ جرم کی دنیا کبھی کسی کو کچھ نہیں دیتی
راجو کا پیغام

انہوں نے فلم میں کسی اسٹنٹ آرٹسٹ کو نہیں لیا ہے مار دھاڑ کے مناظر ان کے کردار خود کرتے ہیں کیونکہ وہ اپنی اصلی زندگی میں وہی کام کرتے ہیں۔

راجوکو پولیس کی جانب سے مداخلت کا بھی کوئی ڈر نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کوئی غلط کام نہیں کر رہے ہیں اور انہیں نہیں لگتا کہ پولیس ان کے کام میں مداخلت کرے گی۔

جوائنٹ پولیس کمشنر (نظم و نسق) اروپ پٹنائیک کا کہنا ہے کہ جب تک کوئی غیر قانونی سرگرمی نہیں ہوتی پولیس مداخلت نہیں کرے گی لیکن فلم میں کہانی اگر متنازعہ ہوئی تو پولیس ضرور کارروائی کرے گی۔ فلم مئی یا جون میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔

اسی بارے میں
بھوجپوری فلمی صنعت عروج پر
15 December, 2005 | فن فنکار
عدالت: سلمان کو دس دن کی مہلت
15 December, 2005 | فن فنکار
بولی وڈ اب پاکستانی ٹی وی پر
06 January, 2006 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد