انڈیا: طوفان کم خطرناک نکلا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی بھارت میں آنے والا سمندری طوفان جس کی وجہ سے ہزاروں لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو گئے تھے، پیش گوئی سے کم خطرناک ثابت ہوا ہے۔ فانوس نامی طوفان کا زور گہرے سمندر میں چلا گیا ہے۔ یہ ایک ہفتہ کے دوران تامل ناڈو میں آنے والا دوسرا سمندری طوفان ہے۔ ساحلی علاقوں کی نشیبی آبادیوں کے لوگوں کو نقل مکانی کا مشورہ دیا گیا تھااور مچھیروں کو سمندر میں جانے سے منع کر دیا گیا تھا۔ اکتوبر سے اب تک شدید بارشوں کی وجہ سے دو لاکھ لوگ اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ مدراس سے بی بی سی کے نمائندے ٹی این گوپالن نے بتایا کہ تامل ناڈو کے مشرقی ساحل پر سمندر میں پانی کے دباؤ کی وجہ سے زمین کا کچھ حصہ سمندر میں گر گیا ہے۔ اس سے تامل ناڈو میں شدید بارشیں ہوئی ہیں لیکن اندیشے سے کم نقصان ہوا ہے۔ طوفان کی اطلاع دینے والے ادارے کے ڈائریکٹر ایس آر رحمٰن نے بتایا کہ ’پچاس سے ساٹھ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی آندھیوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ مچھیروں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ مزید ایک دن سمندر میں نہ جائیں‘۔ طوفان سے بچاؤ کے لیے تقریباً تیس ہزار لوگوں کو اس علاقے سے نکالا گیا تھا۔ ریت کی بوریاں اور ایک سو بحالی کے مراکز بھی تیار کر لیے گئے تھے۔ اس سال کے دوران بارشوں اور سیلابوں کی وجہ سے جنوبی بھارت میں تقریباً تین سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس علاقے میں تقریباً ایک سال پہلے آنے والے سونامی میں چھ ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ |
اسی بارے میں رابڑی دیوی: ہندو انتہا پسند سیاست دانوں کی رول ماڈل؟10 December, 2005 | انڈیا زلزلے سے اوڑی پراجیکٹ خطرے میں10 December, 2005 | انڈیا سنجے دت اور ابو سالم عدالت میں09 December, 2005 | انڈیا آشا بھوسلےگریمی ایوارڈ کےلیےنامزد 09 December, 2005 | انڈیا زلزلہ زدگان کےلیےمیوزک شو 09 December, 2005 | انڈیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||