BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 August, 2005, 20:02 GMT 01:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عامر: ہرآٹھ ماہ بعد ایک فلم

عامر خان
عامر کا کہنا ہے کہ اگر ایک بار کردار کا دماغ پڑھ لیا جائے تو پھر اس کا رنگ ڈھنگ اختیار کرنے میں آسانی ہوجاتی ہے
بھارت کے معروف فلمی اداکار عامر خان نے کہا ہے کہ ذاتی زندگی میں پریشانیوں کی وجہ سے ان کی نئی فلم’دی رائزنگ‘ کے آنے میں چار سال لگے ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ اب ہر آٹھ ماہ میں ان کی ایک نئی فلم آئےگی ان خیالات کا اظہار عامر خان نے سو ئیزرلینڈ کے شہر کارنومیں اپنی نئی آنے والی فلم’دی رائزنگ‘ کے ورلڈ پریئمیر کے موقع پر بی بی سی کے نمائندے سےخصوصی گفتگو میں کیا۔

اس سوال پر کہ وہ اس سے پہلے لگان کے حوالے سے کارنو آئے تھے اور یہیں اس کا شو ہوا تھا اس بار وہ اپنی نئی آنے والی فلم’ دی رائزنگ‘ کے ساتھ کن امیدوں سے آئے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ امید ہے کہ یہ فلم ذرائع ابلاغ اور فلم بینوں کو پسند آئے گی۔ جس طرح یہاں سے لگان کا بین الاقوامی سفر شروع ہواتھا اور اتنی کامیابی ملی تھی اس طرح دی رائزنگ بھی کامیاب ہوگی۔

اس سوال پر کہ لگان کو کمرشل بنیاد پر کامیابی ملی تھی اتنا ہی فلم کے ناقدین نے سراہا بھی تھا۔ ایک اداکار ہونے کے ناطے وہ کس چیز کو اہمیت دیتے ہیں؟ کمرشل کامیابی یا باقدین کی آراء؟ انہوں نے کہا کہ ان کے لیے فلم بینوں کی رائے سب سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔ فلم جب مکمل ہوتی ہے تب وہ اسےخود دیکھتےہیں اور اس فلم کے نتائج کا خود اندازہ لگاتےہیں۔ اس کے بعد جن فلم بینوں کے لیے یہ فلم بنائی گئی ہے ان کا اس کے بارے میں کیا تاثر ہے یہ بات ان کے لیے اہم ہے۔ جب بات کمرشل کامیابی کی کی جاتی ہے تو اس کا مطلب پیسوں سے ہوتا ہے۔ میں ایک اداکار ہوں اور یہ فلم فلم بینوں کو فلم پسند آگئی تو یہی ان کی کامیابی ہوگی۔

اس سوال پر کہ یہ دیکھا گیا ہےکہ وہ اپنے کرداروں کے حوالے سے بڑی سخت محنت کرتے ہیں۔ انہوں نے منگل پانڈے کے کردار کے لیے کافی محنت کی تھی؟ انہوں نے بتایا کہ وہ کسی فلم کے اسکرپٹ کو دیکھنے کے بعد ہی اس کا انتخاب کرتے ہیں اور ڈائریکٹر کے ساتھ بیٹھ اس کردار کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں۔

عامر خان
عامر کو اپنی فلم دی رائزنگ سے بڑی امیدیں ہیں
ان کا کہنا ہے کہ اگر ایک بار کردار کا دماغ پڑھ لیا جائے تو پھر اس کا رنگ ڈھنگ اختیار کرنے میں آسانی ہوجاتی ہے اور ساری بات اس میں تحقیق کی ہے۔

عامر نے بتایا کہ اس فلم کے کردار منگل پانڈے کے لیے انہوں نے مونچھیں اور بال بڑھائے اور اس سلسلے میں انہیں ڈیڑھ سال کا عرصہ لگا۔ اسی طرح اس کردار کی جسمانی ساخت اپنانے کے لیے انہیں خصوصی تربیت حاصل کرنی پڑی۔

غیر ملکی اداکاروں کے ساتھ کام کرنے کے تجربے کے سوال پر انہوں نے بتایا کہ اس فلم میں کام کرنے والے اداکاروں کو ہندی سیکھنی پڑی۔ اس فلم میں جتنے غیر ملکی اداکاروں نے حصہ لیا ان سب کو اس کا اسکرپٹ پسندآیا تھا اور انہیں ان سب سے ساتھ کام کرنے میں بڑا لطف آیا خصوصا ٹوبی اسٹونیز کہ اس فلم کا سب سے طاقتور پہلو ٹوبی کی اداکاری ہے۔

اپنی فلموں میں طویل وقفوں کے سلسلے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عام طور پر ہر سال ان کی ایک فلم ضرور ریلیز ہوتی ہے۔ اس بار عرصہ زرا زیادہ ہوگیا کیونکہ وہ ذاتی زندگی میں کچھ پریشانیوں کا شکار تھے۔ اس وجہ سے ان کی ذہنی کیفیت ایسی نہیں تھی کہ وہ کام کے بارے میں سوچ سکیں۔

انہوں نے جب دی رائزنگ کا اسکرپٹ پڑھا تو انہیں بہت پسند آیا اور اس پر انہوں نے ڈیڑھ سال تک کام کیا۔

عامر نے بتایا کہ انہوں نے اپنی فلموں کے درمیان وقفہ کم کرنے کے بارے میں منصوبہ بندی کرلی ہے مگر کام کا طریقہ کار نہیں بدلا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ایک وقت میں ایک ہی فلم کریں گے اور نئی فلم کی شوٹنگ کے بعد چار مہینے کے وقفے سے دوسری فلم کی شوٹنگ شروع کریں
گے۔ جیسے منگل پانڈے کی شوٹنگ کے چار مہنے بعد انہوں نے ’رنگ دے بسنتی‘ کی شوٹنگ شروع کی۔ اس طرح ہر آٹھ ماہ بعد فلم بین ان کی ایک فلم دیکھ سکیں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد