BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 11 June, 2005, 20:51 GMT 01:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوپر بم دھماکے ملزمان بری

گھاٹ کوپر
اس بم دھماکے میں دو افراد ہلاک ہوئے تھے اور ملزم کے دورانِ تفتیش موت واقع ہو گئی
بھارت میں گھاٹ کوپر بم دھماکے میں پوٹا قانون کے تحت گرفتار کیے جانے والے تمام کے تمام آٹھ ملزموں کو عدالت نے بری کر دیاہے۔

بھارت میں پوٹا کا یہ پہلا کیس ہے جس پر عدالت نے اپنا سنایا ہے۔

خصوصی جج اے پی بھنگالے نے ملزمان، وکلاء اور میڈیا سے بھری عدالت میں فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ استغاثہ کے وکیل ملزمان کے خلاف ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے ہے۔

ڈاکٹر عبدالمتین، عبدالباسط، مزمل، جمیل، عمران، رحمن، محمد الطاف اور توفیق پر الزام تھا کہ انہوں نے بیسٹ بس میں بم رکھنے کی سازش کی تھی اور اس کے پیچھے دماغ دبئی میں مقیم ابو حمزہ اور لشکر طیبہ کا تھا۔ بس میں بم رکھنے کا الزام عارف حسین، عرف پان والا اور رشید انصاری پر تھا۔

ملزم ڈاکٹر متین ممبئی کے مشہور سرکاری جے جے اسپتال میں لیکچرار تھا۔وکیل دفاع مبین سولکر کے مطابق ملزمان سے پولیس نے جواقبالیہ بیان حاصل کیے تھے وہ شکوک و شبہات سے بالا نہیں ہیں۔

ایک ملزم توفیق حامد کو ہندی نہیں آتی ہے لیکن پولیس نے ہندی میں لکھے گئے بیان پر اس کے دستخط لیے تھے۔ بس کے کنڈیکٹر نے بھی ملزموں کو پہچاننے سے انکار کیا تھا۔اس کے علاوہ کیس کےکئی گواہ منحرف ہو گئے تھے۔

اسی معاملے میں اورنگ آباد کے ایک الیکٹرانک انجینئر خواجہ یونس کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا اور اس کی پولیس حراست میں مبینہ طور پر تشدد کی وجہ سے موت ہو گئی تھی۔

خواجہ یونس کی موت کے خلاف عدالت میں چھ پولیس والوں کے خلاف بھی مقدمہ چل رہا ہے اور دو درجن سے زائد پولس والوں نے گرفتاری سے بچنے کے لیے عدالت سے پیشگی ضمانت کی درخواست کی ہوئی ہے۔

ممبئی میں سن دو ہزار چار میں گھاٹ کوپر کے علاقے میں بیسٹ کمپنی کی ایک بس میں بم دھماکہ ہوا تھا جس میں دو افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔

ہندوستان میں پوٹا قانون کے خلاف کافی آوزیں اٹھتی رہی ہیں۔ اس کی بعض دفعات ٹاڈا سے بھی زیاددہ خطرناک تصور کی جاتی ہیں۔ اس میں ملزم کو کم از کم چھ ماہ تک ضمانت نہیں مل سکتی اور پولیس کے سامنے اس کے اقبالیہ بیان ہی کو ثبوت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے کئی واقعات سامنے آئے ہیں کہ پولیس زبردستی ملزموں سے بیان لیتی ہے اور پھر انہیں کئی سال تک جیل رکھا جاتا ہے۔

66ممبئی کےمجرا خانے
ممبئی میں ڈانس بار بند تو مجرے شروع
66ممبئی کس کا؟
بھارت کی تجارتی راجدھانی میں کون رہےاورکون نہیں
66اشتہارات پر پابندی
فحاشی کے خلاف ممبئی ہائی کورٹ کا فیصلہ
66ممبئی: تین کہانیاں
ممبئی میں ایک پاکستانی نے کیا دیکھا کیا سنا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد