قانون کے جھگی نشین رکھوالے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کے شہر ممبئی میں ایک ایسی اسکیم متعارف کرائی گئی ہے جس میں جھگیوں کے حالات سدھارنےاور جرائم میں کمی کے لیے جھگیوں کے مکینوں کو پولیس کا کردار اور اختیارات دیئے گئے ہیں۔ اس اسکیم کے ذریعے ہر "جھونپڑ پٹی" یا جھونپڑیوں کے علاقے سے سات خواتین اور تین مرد حضرات کو چنا جاتا ہے۔ یہ افراد ایک سرکاری پولیس افسر کے ساتھ پنچائت نامی ایک گروپ کے صورت میں کام کرتے ہیں۔ یہ اسکیم ابھی تک جرائم میں کمی میں بڑی کامیاب ثابت ہوئی ہے۔ بمبئی کے پولیسں کمشنر اے این رائے نے ورلڈ اربن فورم کو بتایاکہ اس اسکیم کو وسیع پیمانے پر عمل میں لایا جائےگا۔ اس کا آغاز پندرہ علاقوں سے کیا گیا تھا اور فی الوقت سو علاقوں میں پنچائت ہیں۔ عدم اعتماد: اس وقت بھارت میں ایک سو پچاس ملین یعنی پندرہ کروڑ لوگ جھگیوں میں رہتے ہیں۔ تاریخی طور پر ان کچی آبادیوں میں پولیسں کے لیے معمول کے فرائص سرانجام دینا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ پولیسں اور ان کچی آبادیوں کے مکین ایک دوسرے پر اعتبار نہیں کرتے۔ کمشنر اے این رائے کے مطابق پولیس جھگیوں کے تمام مکینوں کو مجرم سمجھتی ہے اور دوسری طرف جھگی کے مکین پولیسں کو ظالم گردانتے ہیں۔
زیادہ تر جرائم چھوٹے چھوٹے جھگڑوں پر ہوتے ہیں جیسے قطار کا توڑنا اور زمینوں کے جھگڑے۔ شراب نوشی بھی ان جھگڑوں کا باعث ہوتی ہے۔ تاہم ان جھگڑوں کا حل بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ فریقین مالی طور پر عدالتی حل کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ پنچائتی نظام: اس اسکیم کے تحت جھگیوں کے مکین اپنے جھگڑے پنچائت کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ اگرچہ پنچائت ارکان کے سرکاری طور پر پولیس والوں جیسے اختیارات نہیں ہوتے لیکن انہیں بمبئی پولیسں کی طرف سے ایک بیج دیا جاتا ہے۔ اپنے سامنے پیش ہونے والے معاملات کی کارووائی کے دوران پنچائت کے ارکان فریقین کے دلائل ریکارڈ کرتے ہیں اور اس پر اپنا آزادانہ فیصلہ دیتے ہیں۔ خواتین کا تحفظ: پنچائت کی ہیئتِ ترکیبی میں تین مردوں کے مقابلے میں سات خواتین کی نامزدگی کا مقصد بھی عورتوں پر ہونے والے تشدد کی بیج کنی ہے۔ پنچائت میں عورتوں کے موجودگی عورتوں پر مظالم کرنے والوں پر دباؤ کا باعث بنتی ہے۔ تجربہ نے یہ ثابت کیاہے کہ پنچائت میں موجود خواتین زیادہ جوش خروش سے خواتین کے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی ہیں۔
ممبئی کی جھگیوں میں اس اسکیم کے ذریعے کامیابی سے جرائم میں کمی کے بعد اب سنجیدگی سے اس کے ذریعے کچی آبادیوں میں صحت کی سہولتوں اور پیشہ ورانہ تربیت کی فراہمی پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس کا لازمی نتیجہ شہر کی غریب ترین آبادیوں کی حالت زار بہتر بنانے کی صورت میں نکلے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||