مستقل رکنیت کے دعوے پر زور | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ساتھ مزاکرات کے دوران سلامتی کونسل میں اپنی مستقل رکنیت کے دعوے پر زور دیا۔ مسٹر عنان نے ، جو پیر کی رات بھارت کے چار روزہ دورے پر دہلی پہنچے، بھارتی وزیر خارجہ نٹور سنگھ سے ملاقات کی اور اب وزیر اعظم منموہن سنگھ سے ملاقات کریں گے۔ بھارت کا اصرار ہے کہ اس کی آبادی اور معیشت کے فروغ کے پیش نظر سلامتی کونسل میں اسے مستقل رکنیت دی جائے اور اس کے لئے بھارت کافی عرصے سے مہم چلا رہا ہے۔ اس ہفتے میں مسٹر عنان کے ساتھ بھارتی وزیر خارجہ کی یہ دوسری ملاقات ہے اس سے قبل وہ مسٹر عنان سے گزشتہ ہفتے جکارتا میں ایشیا افریقہ سربراہ کانفرنس کے دوران ملے تھے۔ بھارت کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مسٹر عنان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جو بھارت اور اقوام متحدہ دونوں کے لئے ہی اہم ہے۔ ترجمان نوتیج سرنا کا کہنا تھا کہ بھارت اقوام متحدہ میں اصلاحات کی ضرورت پر زور دے رہا ہے تاکہ وہ جدید دور کے حقائق کی عکاسی کر سکے اور زیادہ موثر ادارہ ثابت ہو سکے ۔ مسٹر عنان حکمران جماعت کانگریس کی صدر سونیا گاندھی اور حزبِ اختلاف کے رہنما لال کرشن اڈوانی سے بھی ملاقات کریں گے۔ سیکریٹری جنرل نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ وہ بھارت میں اپنے دورے کے دوران دیگر موضوعات کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ میں اصلاحات کے بارے میں بھی بات کریں گے۔ مسٹر عنان جمعرات کو اس سلسلے میں تقریر کرنے والے ہیں۔ دہلی میں بی بی سی کے نامہ نگار سنجیو سریواستو کا کہنا ہے کہ ملینیم ریو سربراہ کانفرنس ستمبر میں نیو یارک میں ہوگی اور اس کانفرنس کےایجنڈے میں اصلاحات کا مسلہ ضرور شامل ہوگا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مسٹر عنان سلامتی کونسل کی اصلاحات کے لئے دو تجاویز پر غور کر رہے ہیں۔ پہلی تجویز موجودہ پانچ رکنی سلامتی کونسل میں چھ نئے مستقل ممبران کی شمولیت اور دوسرے جزوی طور پر مستقل ملکوں کی شمولیت جن میں غالباً بھارت ، جرمنی ، برازیل اور جاپان شامل ہو گے۔ امکان ہے کہ بھارتی رہنما مسٹر عنان کو جنوبی ایشیا کی موجودہ صورت حال سے بھی آگاہ کریں گے جس میں پاک بھارت تعلقات میں آنے والی بہتری بھی شامل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||