BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 October, 2004, 17:21 GMT 22:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جوہری عدم پھیلاؤ معاہدہ ابھی نہیں‘

جرمنی کے چانسلر اور بھارتی وزیر اعظم
جرمنی کے چانسلر گیرہارڈ شروڈر بھارتی وزیر اعظم کے من موہن کے ہمراہ
بھارت نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر دستخط کرنے سے ایک بار پھر انکار کرد یا ہے۔

نئی دہلی میں جرمنی کے چانسلر گیرہارڈ شروڈور کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا ہے کہ ہندوستان ایک ذمہ دار جوہری طاقت ہے اور جوہری معاملات پر اس کی حکمت عملی بھی بڑی واضح ہے۔

وزیراعظم منموہن سنگھ نے کہا کہ ہم جوہری عدم پھیلا ؤ کے معاملے پر ہم خیال ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں لیکن فی الوقت ایسے حالات نہیں ہیں کہ ہندوستان اس معاہدے پر دستخط کردے۔ تاہم جوہری طاقت ہونے کی حیثیت سے ہم رضاکارانہ طور پر اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔

اس موقع پر جرمنی کے چانسلرگیرہارڈ شروڈر نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں ہندوستان کی مستقل رکنیت کے دعوی کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کئی امور پر بھارت کے ساتھ مشترکہ عملی کے حق میں ہیں۔ ہندوستان نے بھی سکیورٹی کونسل میں جرمنی کی مستقل رکنیت کی دعویداری کی تائید کی ہے۔

ہندوستان اور پاکستان کے درمیان بدلتے رشتو ں کا ذکر کرتے ہوۓ مسٹر گیرہارڈ نے بھارت کے رول کی ستائش کی اور کہا ہندوستان اور پاکستان کے درمیان اچھے رشتوں سے صرف دو ملکوں کا ہی بھلا نہیں ہوگا یہ اس پورے خطے کے مفاد میں ہے اور پوری دنیا کے حق میں بہتر ہے۔ حال ہی میں دونوں ملکوں کے رہنماؤں کے درمیان نیویارک میں جو بات چیت ہوئی تھی ہم اسکا خیر مقدم کرتے ہیں اور اسکی دل سے حمایت کرتے ہیں۔

دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کے ساتھ اقتصادی و تجارتی شعبے میں تعاون بڑھانے پر زور دیتےہوئے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان موجودہ تجارت کو فروغ دیکرآئندہ پانچ برس میں دوگنا کر نے کا حدف ہے۔

مسٹر گیرہارڈ شورڈور اقتصادی و سیاسی امور پر وزیر اعظم منموہن سنگھ سے مزید تبادلہ خیال کرینگے اور بعد میں بھارتی صدر اے پی جے عبدالکلام سے بھی ملاقات کریں گے۔

امکان ہے کہ چانسلر گیرہارڈ کے دوروزہ دورے کے اختتام پر ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا جائے گا۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد