بھارت کو ویٹو کے اختیار کی حمایت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے بھارت کی طرف سے سلامتی کونسل میں ویٹو کے اختیار کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اصلاحات کی صورت میں بھارت کو ویٹو کا اختیار ملنا چاہیے۔ اس کے جواب میں بھارت روس کی ’ڈبلیو ٹی او‘ میں شمولیت کی حمایت کرتا ہے۔ اقوام متحدہ میں اصلاحات کے بارے میں فیصلہ آئندہ سمتبر میں متوقع ہے۔ یہ اصلاحات ’سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عالمی حالات کی عکاسی کریں گی‘۔ بھارت کے تین روزہ دورے کے دوسرے دن صدر پوتن نے بھارت کی کمپیوٹر فرموں کو روس میں کاروبار کی دعوت دی اور کہا کہ انہیں ٹیکسوں میں چھوٹ دی جائے گی۔ صدر پوتن کے دورے کا مقصد بھارت کے ساتھ سرد جنگ کے دنوں کی طرح دوبارہ مضبوط تعلقات قائم کرنا ہے۔ اس سے پہلے جمعہ کو بھارت کے وزیر اعظم منموہن سنگھ اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط کیے جس کے تحت دونوں ممالک میں ’سٹریٹیجک پارٹنرشپ‘، لوگوں کے روابط میں بہتری اور باہمی تجارت میں اضافے پر زور دیا گیا ہے۔ دِلّی میں بی بی سی کے نامہ نگاروں کے مطابق بھارت کی طرف سے امریکہ، اسرائیل اور برطانیہ سے اسلحہ خریدنے کے فیصلے سے روس کو نقصان ہوا اور روس کے صدر |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||