BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 06 April, 2005, 08:27 GMT 13:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ کتنی لاشوں کا پوسٹ مارٹم‘

مقبول وانی
پندرہ ہزار سے زیادہ لاشوں کا پوسٹ مارٹیم کرنے مقبول اپنے بیوی کے ساتھ
کشمیر میں گزشتہ پندرہ برس کی شورش نے یہاں کے ہر خاندان کو کسی نہ کسی طرح متاثر کیا ہے ۔ پوری ایک نسل تشدد کے سائے میں پروان چڑھی ہے۔

لیکن وادی کا ایک شخص ایسا ہے جس نے ایسے تشدد کا سامنا کیا ہے کہ شاید ہی اس کی کوئی دوسری مثال ہو۔ وہ پندرہ ہزار سے زیادہ لاشوں کے درمیان سے گزرا ہے ۔

تقریبا پچاس برس کے محمد مقبول وانی تیس برس سے پوسٹ مارٹم کر رہے ہيں ۔ وہ سرینگر ضلع میں واحد پوسٹ مارٹم اسسٹنٹ ہیں۔ اس لئے کوئی بھی لاش آتی ہے تو انہیں ہی پوسٹ مارٹم کرنا ہوتا ہے۔

کشمیر میں شورش کے دوران غیر سرکاری عدادو شمار کے مطابق ساٹھ ہزار سے زیادہ ا‌فراد ہلاک ہوئے ہیں ۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں 1991 سے 1994 کے درمیان ہوئی ہيں سرکاری اہلکاروں کا اندازہ ہے کہ مقبول وانی نے تقریبا 18 ہزار لاشوں کے پوسٹ مارٹم کئے ہیں ۔

وہ کہتے ہیں کہ ایک دن میں سب سے زیادہ پندرہ لاشوں کا انہوں نے پوسٹ مارٹم کیا تھا۔ اس انتہائی تکلیف دہ کام نے ان کے اعصاب پر بہت برا اثر ڈالا ہے۔

وانی کہتے ہیں’ شام ہوتے ہی میں بے چین ہو جاتا ہوں۔ رات ميں دو ڈبی سگریٹ پیتا ہوں تب نیند آتی ہے۔‘

وانی کو اب خواب میں بھی لاشیں نظر آتی ہیں ۔ وہ بتاتے ہیں کہ 90 کے ابتدائی برسوں میں یہاں کوئی مردہ گھر نہیں تھا۔ جس سے لاشوں کا پوسٹ مارٹم اسی ٹرک پر کیا جاتا تھا جس پر وہ لائی جاتی تھیں۔

وہ کہتے ہیں کہ سب سے برا دن وہ ہوتا تھا جب کسی بچے کی لاش آتی تھی۔ ’اس دن ميں کھانا نہیں کھاتا تھا۔مجھے نیند نہیں آتی تھی۔ مجھے اپنے چھوٹے چھوٹے بچے یاد آتے تھے ۔‘

محمد مقبول وانی کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔ انہیں چھ ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے۔ بیٹے بےروزگار ہیں۔ اس لیے نہ چاہتے ہوئے بھی نوکری کرنے پر مجبور ہیں۔

مقبول وانی کے داماد منظور نے بتایا کہ وانی اب بہت چڑ چڑے ہوگئے ہيں۔ ’پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد ٹینشن ميں رہتے ہیں، گھر آتے ہیں تو کبھی بی ایس ایف والے تو کبھی پولیس والے بلانے آجاتے ہیں۔ کھانہ بھی نصیب نہیں ہوتا ہے۔‘

سرینگر۔مظفرآباد بس کے بارے میں سوال مقبول وانی نے کہا ’ کیسی بس ، کیسا راستہ ، کیسا مسئلہ ۔ مجھے صرف یہ بتاؤ کتنی لاشیں ہیں، کتنے پوسٹ مارٹم کرنے ہيں ‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد