بس مخالف: صرف جماعت اسلامی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی مختلف سیاسی جماعتوں نے مظفرآباد سری نگر بس سروس شروع کرنے کے فیصلے کی حمایت کی ہے جبکہ جماعت اسلامی نے اس کی مخالفت کی ہے اور اسے کشمیریوں کی جدوجہد کو نقصان پہنچانے والا فیصلہ قرار دیا ہے ۔ امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے ،جو کہ پاکستان میں چھ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے صدر بھی ہیں، کہا ہے کہ ’یہ کشمیریوں کی جدوجہد پس پشت ڈالنے کے مترادف ہے اور اس قومی موقف سے انحراف ہے جس کے تحت کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کا حق دلوانے کی بات کی جاتی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں وہاں کے لوگ ان کے بقول بھارتی قبضے کے خلاف سیاسی و عسکری مزاحمت کر رہے ہیں ایسے موقع پر پاکستان کی جانب سے کیے گئے ایسے فیصلے کوئی اچھاتاثر نہیں چھوڑیں گے‘ ۔ انہوں نے کہا کہ’ کشمیریوں کو یہ پیغام ملے گا کہ پاکستان ان کی حمایت چھوڑ کر بھارت کی جانب دوستی کا ہاتھ بڑھا رہا ہے‘۔ متحدہ مجلس عمل کی ہی ایک بڑی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے نائب صدر جنرل حافظ حسین احمد نے اس فیصلے کو امید افزا قرار دیا ہے اور کہا کہ’ اب دونوں اطراف کے کشمیری سفری دستاویزات کے بغیر لائن آف کنٹرول پار کر سکیں جس سے انہیں فائدہ ہوگا اور پاکستان کا موقف اجاگر ہوگا‘۔ انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کے اس موقف کو تقویت پہنچی ہے کہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور دونوں اطراف کے کشمیریوں کو بلا روک ٹوک ایک دوسرے سے ملنا چاہیے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’ماضی میں بھارت یہ الزامات عائد کرتا رہا ہے کہ پاکستان لائن آف کنٹرول کے اس پار تخریب کار بھیجتا ہے اس فیصلے کے بعد اب پاکستان اور بھارت دونوں کی حکومتوں کو بے حد احتیاط سے کام لینا ہوگا اور چھان پھٹک کر اگلے مراحل سے گذرنا ہوگا‘۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چئیرمین راجہ ظفرالحق نے کہا ہے کہ’ اگر واقعی ویزے کے بغیر دونوں طرف آنے جانے کی اجازت مل گئی ہے تو پھر یہ کشمیریوں کے موقف کی فتح ہے‘۔ انہوں نے کہاکہ ’انہیں ابھی اس معاہدے کی زیادہ تفصیلات کا علم نہیں ہے لیکن پاکستان کا شروع سے یہ موقف رہا ہے کہ کشمیریوں کوبلاروک ٹوک آپس میں ملنے کی اجازت ہونی چاہیے اور لائن آف کنٹرول کی بین الاقوامی سرحد کی حثیت نہیں ہونی چاہیے جبکہ بھارت کشمیریوں کو پاکستان آنے سے روکتا رہا ہے اس نے آل پارٹیز حریت کانفرنس کے رہنماؤں کو کبھی پاکستان یا پاکستان کے زیرانتظام کشمیر نہیں آنے دیا اور ان کے بین الاقوامی اجلاسوں میں شرکت میں بھی رکاوٹیں ڈالتا رہا ہے اب اگر کشمریوں کو صرف اس تصدیق کے بعد کہ وہ کشمیری ہیں ایک دوسرے کی طرف آنے جانے کی اجازت مل گئی ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ’ اس فیصلے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ کشمیر کے منقسم خاندانوں کے افراد اب برسوں بعد ایک دوسرے سے مل سکیں گے‘۔ پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے رہنما سابق وفاقی وزیر خالد احمد کھرل نے کہا ہے کہ ’بے شمار منقسم کشمیری خاندانوں کو بلآخر ملنا ہی تھا اور اب انہیں یہ موقع مل رہا ہے انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ کشمیر کے پائیدار حل کی جانب ایک مثبت قدم ہے اور اس سے کشمیر کے مسئلے کے حل ہونے کی توقعات پیدا ہوئی ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’اس سے کشمیریوں کے اس نظریہ کو تقویت ملی ہے کہ کشمیریوں کو اکٹھے رہناہے‘۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||