پاکستان ٹیم ملک کی سسرال میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی ٹیم نظاموں کے شہر حیدرآباد آئی اور شعیب ملک کی سسرال کے علاوہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی اور نہ یہاں اس کے قیام کے دوران کوئی ایسی بات ہی ہوئی جس کا ذکر کیا جائے۔ ایک وارم اپ میچ ہوا جس کے نہ شروع ہونے کا پتہ چلا نہ ختم ہونے کا۔ کسی بھی مرحلے پر ایسا نہیں لگا کہ میدان پر ایک بین الاقوامی ٹیم اور ہندوستان کے بائیس بہترین کھلاڑیوں میں سے گیارہ کے درمیان مقابلہ ہورہا ہے۔ اگر حیدرآبادی بریانی نہ ہوتی تو پاکستانی ٹیم کے لیے یہ سفر بالکل ہی بے کار ثابت ہوتا۔ پورے شہر میں عدم دلچسپی کا عالم تھا، مشکل سے ہی کسی کو پتہ تھا کہ یہاں ایک روزہ میچ ہونا ہے، اور میچ دیکھنے والوں کی تعداد ڈیڑھ ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ جو ہمت کر کے آئے بھی، گرمی نے ان کے حوصلے پست کر دیے۔ نہ انہوں نے کسی کے آؤٹ ہونے پر شور مچایا، نہ کسی کے چھکا لگانےپر۔ پاکستان کے کپتان انضمام الحق، نائب کپتان یونس خان، محمد سمیع، شاہد آفریدی اور یوسف یوحنا نے سائے میں بیٹھ کر میچ کا لطف لیا۔ کپتانی کی ذمہ داری عبدالرزاق کے کندھوں پر رہی۔ ہندوستان اے کی قیادت سراج بھوتولے نے کی جوممبئی کے کپتان ہیں اور کسی زمانے میں ہندوستان کے لیے کھیل چکے ہیں۔ پاکستان نے ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ کیا اور نئی گیند رانا نوید الحسن اور راؤ افتخار انجم کو سونپی گئی۔ نوید نے دو وکٹ لیے اور ایک ایک وکٹ شاہد نذیر، ارشد خان اور افتخار انجم کے حصےمیں آیا۔ ہندوستان اے نے کسی طرح ایک سو نواسی رن بنائے اور پاکستان نے مطلوبہ اسکور دو وکٹوں کے نقصان پر اکتالیس اووروں میں پورا کر لیا۔ پاکستان کے لیے شعیب ملک نے 81 ناٹ آؤٹ اور سلمان بٹ نے 70 رنز بنائے۔ میچ کے دوران تھوڑی دیر کے لیے محمد اظہرالدین نے بھی درشن دیے۔ کافی دیر تک انضمام سے باتیں کرتے رہے اور پھرخاموشی سے غائب ہوگئے۔ پاکستانی ٹیم کے ڈیڑھ روزہ قیام کی ہائی لائٹ شعیب ملک کی سسرال میں دعوت رہی جہاں حیدرآبادی بریانی کا خاص اہتمام تھا۔ مہمان ٹیم کل صبح کوچی کے لیے روانہ ہوگی جہاں دو اپریل کو پہلا ایک روزہ بین الاقوامی میچ کھیلا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||