مُرلی دھرن کو ماں کا مشورہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عالمی ریکارڈ ہولڈر سپن بالر مرلی دھرن اس وقت آسٹریلیا کے دورے پر جانے اور نہ جانے کے بارے میں شدید تذبذب کا شکار ہیں۔ ایک طرف سری لنکا کی کرکٹ انتظامیہ ہے جو انہیں کھیلتا ہوا دیکھنا چاہتی ہے اور دوسری طرف ان کی ماں ہیں جو نہیں چاہتی کہ ان کا بیٹا آسٹریلیا کے دورے پر جائے۔ مرلی دھرن کی والدہ لکشمی متیا کا خیال ہے کے آسٹریلیا کے دورے کے دوران ان کو تنگ کیا جائے گا اور ان کے ایکشن پر سوال اٹھایا جائے گا۔ مرلی دھرن نے آسٹریلیا کے وزیر اعظم کی طرف سے اپنے بالنگ ایکشن کے خلاف بیان کے بعد دورے پر نہ جانے کی دھمکی دی تھی۔ مرلی دھرن اس وقت نوّے ٹیسٹ میچوں میں پانچ سو ستائیس وکٹوں کے ساتھ دنیا کے سب سے زیادہ وکٹیں حاصل کرنے والے بالر ہیں۔ لکشمی متیا کا کہنا کہ مرلی کو آسٹریلیا سے ان کے دوست اور آسٹریلیا کے سابق کپتان سٹیو وا سمیت بہت سے لوگوں کے فون آتے ہیں جو ان کو دورے پر جانے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ وہ جائے۔ مرلی کی والدہ کا، جنہوں نے ابھی تک اپنے بیٹے کی ہر گیند دیکھی، کہنا ہے کہ جب بھی وہ آسٹریلیا جاتے ہیں شائقین انہیں بے عزت کرنے کی کوثشش کرتے ہیں اور حکام ان کے ایکشن پر اعتراض اٹھاتے ہیں۔ انیس سو پچانوے میں آسٹریلیا کے دورے کے دوران ایمپائر ڈیرل ہیر نے مرلی دھرن کے ایکشن کو غلط کہا تھا۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل ان کے ایکشن کو درست قرار دے چکی ہے تاہم ان پر ان کی مشہور گیند ’دوسرا‘ کرانے کی پابندی ہے۔ مرلی دھرن کی والدہ حال ہی میں سابق بھارتی سپنر بشن سنگھ بیدی کی طرف سے دیئے گئے اُس بیان پر سخت خفا ہیں جس میں انہوں نے مُرلی پر بے ایمانی کرنے کا الزام لگایا تھا۔ ان کے کوچ سنیل فرنینڈو نے بِشن سنگھ بیدی کو حاسد کہا۔ فرنینڈو کے خیال میں آسٹریلیا والے مرلی دھرن کی حوصلہ شکنی کرنا چاہتے ہیں۔ ’وہ شین وارن کو مرلی دھرن سے آگے دیکھنا چاہتے ہیں۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||