آئی سی سی پر دباؤ ڈالا گیا ہے، مرلی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سری لنکن بولر مرلی دھرن نے کہا ہے کہ آئی سی سی نے اُن کی مشکوک ڈلیوری ’دوسرا‘ پر پابندی آسٹریلوی اور برطانوی کرکٹ بورڈ کے دباؤ کے بعد لگائی ہے جبکہ ایشیا میں کسی اِس پر کسی کو اعتراض نہیں ہے۔ مرلی دھرن کی مشکوک ڈلیوری ’دوسرا‘ کو آئی سی سی نے بائیو مکینیکل ٹیسٹ کے بعد غیر قانونی قرار دے دیا ہے۔ لیکن ٹیسٹ میچوں میں پانچ سو ستائیس وکٹیں لینے والے مرلی دھرن کا کہنا ہے کہ وہ اپنی ڈلیوری ’دوسرا‘ کے بغیر بھی گذارا کر سکتے ہیں۔ یہ پابندی انگلش امپائر کرس بورڈ نے آسٹریلیا کے خلاف جاری ٹیسٹ سیریز میں پچھلے سال اُس وقت لگائی تھی جب مرلی دھرن نے اپنی ڈلیوری ’دوسرا‘ کا استعمال کیا تھا۔ بتیس سالہ آف اسپنر کا کہنا ہے کہ اُن کے پاس دوسری ایسی ڈلیوریز ہیں جس سے وہ بیٹسمین کو چکرا سکتے ہیں۔ مرلی دھرن نے اپنے پڑوسی ممالک سے تعلق رکھنے والے ٹیسٹ کرکٹرز اور اپنے مداحوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے مرلی دھرن کا بھرپور ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئی سی سی اُن کی مشکوک ڈلیوری ’دوسرا‘ کے استعمال پر پابندی لگاتی ہے تو وہ دوسری ڈلیوریز کا بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اُن کو سری لنکن وزیرِاعظم مہندا راجا پاکسے کی حمایت بھی حاصل تھی جنہوں نے گذشتہ ہفتہ آئی سی سی کے خلاف قانونی کاروائی کی دھمکی دی تھی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||