مرلی کیس: آئی سی سی کی پریشانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے سیاست دانوں کو مرلی دھرن کے ایکشن پر تبصرہ کرنے سے باز رہنے کو کہا ہے۔ سری لنکا اور آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم، دونوں نے مرلی دھرن نے باؤلنگ ایکشن پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ لیکن آئی سی سی کے صدر احسان مانی نے کہا ہے کہ اِس معاملے میں معتبر شخصیات کے بیانات سے کسی قسم کی کوئی مدد نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ اُن کو چاہیے کہ اپنے خیالات سے ہمیں آگاہ کریں۔ آئی سی سی نے مرلی دھرن کی ایک مخصوس بال ’دوسرا‘ کو مشکوک قرار دیا ہے کیونکہ بائیومکینیکل ٹیسٹ کے بعد ان کا یہ ایکشن آئی سی سی کے قوانین کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔ آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم جان ہاورڈ اور دوسرے کرکٹ کے شائقین نے سوال اٹھایا ہے کہ ’کیا ان کی دوسری تمام ڈلیوریز قانونی ہیں‘۔ اس کے علاوہ سری لنکا کے وزیرِ اعظم مہندا راجا پاکسے نے ان تمام بیانات کا سہارا لیتے ہوئے آئی سی سی کو دھمکی دی ہے کہ وہ آئی سی سی کے خلاف قانونی کاروائی کریں گے۔ جبکہ آئی سی سی کے صدر احسان مانی کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں معلوم کہ کس بنا پر آئی سی سی کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی جبکہ آئی سی سی کے قوانین پر تمام ممبران متفق ہیں۔ وزیرِ اعظم مہندا راجا پاکسے کے سکریٹری روہن ولیویٹا کا کہنا ہے کہ پوری قوم کو مرلی دھرن کا ساتھ دینا چاہیے کیونکہ وہ ہمارے قومی ہیرو ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||