BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 May, 2004, 20:33 GMT 01:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مرلی کیس: آئی سی سی کی پریشانی
مرلی دھرن
سری لنکا کے مایہ ناز آف اسپنر مرلی دھرن
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے سیاست دانوں کو مرلی دھرن کے ایکشن پر تبصرہ کرنے سے باز رہنے کو کہا ہے۔

سری لنکا اور آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم، دونوں نے مرلی دھرن نے باؤلنگ ایکشن پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔

لیکن آئی سی سی کے صدر احسان مانی نے کہا ہے کہ اِس معاملے میں معتبر شخصیات کے بیانات سے کسی قسم کی کوئی مدد نہیں ملے گی۔

انہوں نے کہا کہ اُن کو چاہیے کہ اپنے خیالات سے ہمیں آگاہ کریں۔

آئی سی سی نے مرلی دھرن کی ایک مخصوس بال ’دوسرا‘ کو مشکوک قرار دیا ہے کیونکہ بائیومکینیکل ٹیسٹ کے بعد ان کا یہ ایکشن آئی سی سی کے قوانین کے زمرے میں نہیں آتا ہے۔

آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم جان ہاورڈ اور دوسرے کرکٹ کے شائقین نے سوال اٹھایا ہے کہ ’کیا ان کی دوسری تمام ڈلیوریز قانونی ہیں‘۔

اس کے علاوہ سری لنکا کے وزیرِ اعظم مہندا راجا پاکسے نے ان تمام بیانات کا سہارا لیتے ہوئے آئی سی سی کو دھمکی دی ہے کہ وہ آئی سی سی کے خلاف قانونی کاروائی کریں گے۔

جبکہ آئی سی سی کے صدر احسان مانی کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں معلوم کہ کس بنا پر آئی سی سی کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی جبکہ آئی سی سی کے قوانین پر تمام ممبران متفق ہیں۔

وزیرِ اعظم مہندا راجا پاکسے کے سکریٹری روہن ولیویٹا کا کہنا ہے کہ پوری قوم کو مرلی دھرن کا ساتھ دینا چاہیے کیونکہ وہ ہمارے قومی ہیرو ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد