پدم شری ایوارڈ لینے سے انکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آسامی ادیب اور صحافی کناکسن دیکا نے احتجاجاً بھارتی شہری اعزاز پدم شری ایوارڈ لینے سے انکار کر دیا ہے۔ کناکسن دیکا آسام کے ایک معروف صحافی اور ادیب ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ وہ یہ ایوارڈ نہیں لیں گے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دیکا نے کہا کہ انہیں آسام کے تمام بڑے اعزاز حاصل ہو چکے ہیں اور وہ آسامی عوام کے شکر گزار ہیں جو انہیں اتنی عزت کے لائق تصور کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے اس کے بعد بھارتی حکومت کے رویے کی وجہ سے انہیں پدم شری ایوارڈ میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ان کا موقف تھا کے بھارتی حکومت کو اہم ترین مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ یونائٹڈ لبریشن فرنٹ آف آسام سے مذاکرات کرے اور بھارت کی مرکزی حکومت اور آل آسام سٹوڈنٹ فیڈریشن کے درمیان تارکینِ وطن کے مسئلے پر 1985 میں ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد کرے۔ اے اے ایس یو کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت مذکورہ سمجھوتے پر عمل نہیں کر رہی اور تارکینِ وطن کی آمد بنگلہ دیش اور دوسرے ہمسایہ ملکوں سے مسلسل جاری ہے۔ بھارت کے مرکزی وزیرداخلہ شیوراج پٹیل نے گزشتہ دنوں آسام کا دورہ کیا تھا لیکن اے اے ایس یو کے عہدیداروں نے ان سے مذاکرات کرنے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ صرف وزیراعظم یا ان کے نمائندے سے مذاکرات کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||