آسام: ڈیب کی رہائی کی اپیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن کے ایک ریٹائرڈ ٹیچر کے رشتہ داروں نے جنہیں بھارت میں اغوا کرلیا گیا ہے دونوں ملکوں کی حکومتوں سے ان کی رہائی کیلئے اپیل کی ہے۔ گزشتہ مارچ پراتُل ڈیب کو بندوق کی نوک پر شمال مشرقی ریاست آسام میں اغوا کرلیا گیا تھا، تب سے ان کے گھروالوں سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہے۔ مسٹر ڈیب بیس برسوں سے برطانیہ میں آباد رہے ہیں تاہم اب تک ان کے پاس انڈین پاسپورٹ ہے۔ ان کی فیملی نے دونوں حکومتوں پر ان کی رہائی کرانے میں مدد نہ کرنے کا الزام لگایا ہے۔ چونکہ وہ برطانوی شہری نہیں ہیں اس لیے برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ صرف ان کے گھروالوں کو مشورہ ہی دے سکتی ہے۔ منگل کے روز ان کے گھروالوں نے لندن میں انڈین ہائی کمیشن کو ایک پیٹیشن دی جس پر دوہزار تین سو لوگوں نے ڈیب کی رہائی کے حق میں دستخط کیے ہیں۔ان کی فیملی کا کہنا ہے کہ اغواکاروں نے پراتُل ڈیب کو امیر سمجھ کر نشانہ بنایا۔
ڈیب کے گھروالوں نے بھارت میں ان کی رہائی کی کوشش میں کئی ماہ گزارے ہیں اور ان کی اہلیہ شیبانی نے اپنا گھر بھی مارگیج کردیا تاکہ اغواکاروں کو پیسہ دیا جاسکے۔ اغواکاروں کو تین ماہ قبل دس ہزار پاؤنڈ دینے کے باوجود بھی ڈیب کی رہائی کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ لندن میں انڈین ہائی کمیشن نے کہا ہے کہ اس بارے میں وہ ہر ممکن کوشش کررہےہیں تاہم اس کے لیے انہیں بھارت میں قانون نافذ کرنیوالے افسروں پر انحصار کرنا پڑرہا ہے۔ ڈیب اور ان کی تین بیٹیاں بتیس سالہ سِپرا، انتیس سالہ دیپا اور ستائیس سالہ پروتیما چاہتی ہیں کہ برطانوی حکومت ان کی مزید حمایت کرے اور بھارتی حکومت سے مطالبہ کرے کہ ان کا پتہ چلانے کیلئے انٹیلیجنس کی مدد لی جائے۔ برطانوی رکن پارلیمان رِچرڈ ہلم نے ان کے مطالبے کی حمایت کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||