آخری مرحلے کی انتخابی مہم ختم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت میں دس مئی کے عام انتخابات کے آخری مرحلے کی ووٹنگ کے لیے انتخابی مہم سنیچر کے روز اختتام پذیر ہو گئی ہے۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے جاری انتخابی مہم کے آخری روز عام انتخابات کے آخری مرحلے کی پولنگ سے دو دن قبل تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نےملک کے مختلف مقامات پر جلسے کئے۔ پیر کے روز آخری مرحلے کی پولنگ کے بعد تیرہ مئی کوپانچ مرحلوں میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا۔
ان انتخابات میں ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کے کہ کون سا اتحاد اکثریت حاصل کر سکے گا۔ مختلف ذرائع ابلاغ کی طرف سے رائے عامہ معلوم کرنے کے لیے کرائے جانے والے جائزوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں قائم اتحاد مستقبل کی لوک سبھا میں واضح اکثریت حاصل نہیں کر پائے گا۔ تاہم بی جے پی سادہ اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔
کانگریس کی رہنما سونیا گاندھی نے انتخابی مہم کے آخری روز دہلی میں انتحابی ریلی سے خطاب کیا۔ سونیا گاندھی نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ بھارت کو حکمران جماعت کی بدعنوانیوں سے بچایا جائے۔ انتخابات کے آخری مرحلے میں ملک کی بارہ ریاستوں میں اکیس کروڑ اکاون لاکھ ووٹر لوک سبھا کی ایک سو بیاسی نشستوں پر اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ بی جے پی کی قیادت میں قائم نیشنل ڈیموکریٹک الائنس نے پنجاب اور ہماچل پردیش میں بڑے جسلے منعقد کئے جس میں وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی نے خطاب کیا۔
نائب وزیر اعظم ایل کے اڈوانی نے پونڈچرئی میں، بی جے پی کے صدر ونکھیا نائڈو نے چننائی جب کے بی جے پی کے رہنماؤں پرمود مہاجن ، راجناتھ سنگھ اور مختار نقوی نے اتر پردیش کی اٹھارہ باقی حلقوں میں انتخابی مہم کے آخری دن جلسے کئے۔ کانگریس کے راہول گاندھی نے اتر پردیش کے شہر رام پور میں اور سماج وادہی پارٹی کے رہنما ملائم سنگھ یادیو نے شاہ جہاں پور میں انتخابی مہم کا اختتام کیا۔ پیر کو اتر پردیش کی اٹھارہ، مدہیا پردیش کی انتیس میں سے سترہ اور جموں اور کشمیر کی آخری دو نشستوں پر پولنگ ہو گئی۔ جب کہ مغربی بنگال کی بیالیس ، تامل ناڈو کی انتالیس، کیریلا کی بیس، پنجاب کی تیرہ، ہریانہ کی دس دہلی کی سات، اتر آنچل کی پانچ، ہماچل پردیش کی چار اور پونڈچری، چندی گڑھ، لکھشاویپ اور آسام کی ایک ایک نشست پر ووٹ ڈالےجائیں گے۔ اس مرحلے میں دو ہزار ایک سو بتیس امیدوار حصہ لیے رہے ہیں۔ اس سے پہلے ہونے والے چار مرحلوں میں لوک سبھا کی تین سو اکسٹھ نشستوں پر پولنگ ہو چکی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||