حملوں میں پاکستانی فوجی ملوث تھے: بھارت

بھارت نے الزام عائد کیا ہے کہ منگل کو جموں میں لائن آف کنٹرول کے قریب اس کے پانچ فوجیوں کو ہلاک کرنے والے حملے میں پاکستانی فوجی ملوث تھے اور یہ کہ ’اس واقعے کے مضمرات پاکستان کے ساتھ رشتے پر نظر آئیں گے‘۔
دریں اثناء پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے لائن آف کنٹرول پر ہونے والے حالیہ واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ فوجی روابط کے موجودہ طریقۂ کار کو مذید بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں اور صورتحال کشیدگی کی طرف نہ بڑھے۔
نئی دہلی میں ہمارے نامہ نگار سہیل حلیم کے مطابق حزِب اختلاف کے زبردست دباؤ کے بعد وزیرِ دفاع اے کے اینٹونی نے جمعرات کو پارلیمان میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس حملے میں پاکستانی فوج کے خصوصی دستوں نے حصہ لیا تھا اور حملہ آوروں کو کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہیے۔
’اس واقعے کا اثر ایل او سی پر ہمارے رویے اور پاکستان کے ساتھ ہمارے تعلقات پر پڑے گا۔ ہمارے صبر کا غلط مطلب نہیں لینا چاہیے اور نہ ہی ایل او سی کی خلاف ورزی روکنے کے لیے بھارتی حکومت کے عزم اور فوج کی صلاحیت پر کسی کو شبہہ ہونا چاہیے۔‘
پاکستان بھارتی الزامات کی سختی سے تردید کرتا رہا ہے۔
<link type="page"><caption> بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کی دفترِ خارجہ طلبی</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2013/08/130807_pakistan_india_dgmos_talk_tim.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> بھارت کی جانب سے دراندازی کا الزام، پاکستان کی تردید</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/india/2013/08/130806_border_attack_tim.shtml" platform="highweb"/></link>
<link type="page"><caption> تعلقات میں بہتری کی کوشش اور سرحد پر جھڑپیں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/multimedia/2013/08/130806_indo_pak_relations_nj.shtml" platform="highweb"/></link>
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس سے قبل منگل کو اپنے پہلے بیان میں اے کے اینٹونی نے کہا تھا کہ حملہ آوروں میں سے کچھ نے ’پاکستانی فوج کی وردی پہن رکھی تھی‘ لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی نے اے کے اینٹونی کے بیان پر سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ لفظوں کے انتخاب سے انہوں نے پاکستانی فوج کو کلین چٹ دیدی ہے۔یہ واقعہ جموں کے پونچھ سیکٹر میں پیر اور منگل کی درمیانی شب پیش آیا تھا۔
بھارتی فوج نے اپنے علیحدہ بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ بیس سے زیادہ حملہ آور، جن میں پاکستانی فوجی بھی شامل تھے، لائن آف کنٹرول عبور کرکے بھارت کے زیر انتظام علاقے میں داخل ہوئے اور وہاں فوج کی ایک ٹکڑی پر حملہ کر کے پانچ بھارتی جوانوں کو ہلاک کردیا۔
حزبِ اختلاف کا الزام تھا کہ حکومت نے دانستہ طور پر فوج کے جاری کردہ بیان میں ترمیم کی تھی کیونکہ وہ باہمی مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے نرم رویہ اختیار کرنا چاہتی ہے۔
فوج اور وزیرِ دفاع کے ابتدائی بیان میں تضاد سے بھارت میں سیاسی طوفان پیدا ہوگیا تھا اور حزبِ اختلاف کی جانب سے حکومت پر سخت تنقید کی گئی تھی۔
بی جے پی نے وزیرِ دفاع کے استعفے کا مطلبہ بھی کیا تھا اور پارٹی کے دباؤ کے سامنے جھکتے ہوئے حکومت کی جانب سے یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ اے کے اینٹونی اس واقعے پر ایک اور بیان دیں گے۔
بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بکرم سنگھ بدھ کے روز جموں گئے تھے لیکن خراب موسم کی وجہ سے پونچھ نہیں جاسکے۔ اے کے اینٹونی نے جنرل سنگھ سے ملاقات کے بعد نیا بیان دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’میں نے منگل کو جو بیان دیا تھا وہ اس وقت تک دستیاب معلومات کی بنیاد پر تیار کیا گیا تھا۔ اب فوج کے سربراہ نے علاقے کا دورہ کیا ہے اوراب یہ بات واضح ہے کہ حملے میں پاکستانی فوج کے خصوصی دستے شامل تھے۔ ہمیں معلوم ہے کہ پاکستانی فوج کی اعانت اور اکثر براہ راست شمولیت کے بغیر لائن آف کنٹرول کے پار سے کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔‘
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہےکہ پاکستان دہشت گردی ختم کرنے کے لیے ٹھوس کارروائی کرے اور سنہ دو ہزار آٹھ کے ممبئی حملوں میں شریک لوگوں کو سزا دینے کے عمل میں تیزی لائے۔
نئے بیان کی سخت زبان سے واضح ہے کہ اب باہمی مذاکرات کی باقاعدہ بحالی یا ان میں کسی ٹھوس پیش رفت کی گنجائش کافی کم ہو جائے گی لیکن گذشتہ تین دنوں میں حکومت نے یہ واضح اشارے دیے ہیں کہ وہ بات چیت معطل کرنے کے حق میں نہیں ہے۔
دریں اثناء سینکڑوں افراد نے ہلاک ہوئے فوجیوں کی آخری رسومات میں حصہ لیا۔ ہلاک ہونے والوں میں چار کا تعلق بہار سے تھا۔
وزیراعظم نواز شریف کا بیان

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے لائن آف کنٹرول پر ہونے والے حالیہ واقعات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ فوجی روابط کے موجود ہ طریقۂ کار کو مزید بہتر طریقے سے استعمال کرنے کی ضرورت ہے تاکہ غلط فہمیاں پیدا نہ ہوں اور صورتحال کشیدگی کی طرف نہ بڑھے۔
پاکستان کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق جمعرات کو وزیراعظم نواز شریف کو حالیہ واقعات پر وزارتِ خارجہ میں بریفنگ دی گئی۔
وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ دونوں ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی کو یقینی اور موثر بنانے کے لیے اقدامات کریں۔
’پاکستان بھارت کے ساتھ سیاسی اور فوجی سطح پر روابط کے موجودہ طریقۂ کار کو مذید موثر بنانے کے لیے بات چیت کرنے پر تیار ہے‘۔
نواز شریف نے کہا کہ فضا کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرنا فریقین کی قیادت کی ذمہ داری ہے اور نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر بھارتی ہم منصب سے ملاقات کے منتظر ہیں اور اس میں اعتماد سازی کے اقدامات کو مستحکم کرنے پر تبادلہ خیال کریں گے۔







