جھارکھنڈ:جھڑپوں میں 10 ماؤ نواز باغی ہلاک

بھارتی ریاست جھار کھنڈ میں پولیس کا کہنا ہے کہ ماؤ نواز باغیوں کے دو گروپوں میں جھڑپوں کے سبب دس ماؤ نواز باغی ہلاک ہوگئے ہیں۔
اطالاعات کے مطابق یہ واقعہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی رات ریاست کے چھترا ضلع میں پیش آیا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ماؤ نواز باغیوں سے ہی الگ ہونے والے ایک گروپ ترتیا پرستوتی سے جھڑپ میں دس ماؤ نواز باغی ہلاک ہوئے ہیں۔
خبر رساں ادارہ پی ٹی آئی کے مطابق چھترا کے ڈپٹی کمشنر منوج کمار نے بتایا ہے کہ ’لکڑمانڈا گاؤں کے پاس سے دس ماؤ نوازوں کی لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔‘
حکام کے مطابق اس معاملے کی مزید تحقیقات کے لیے چند سینیئر پولیس اہلکار جائے واردات کا معائنہ کرنے کے لیے گئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق اس جھڑپ میں ماؤنوازوں کے بعض مقامی لیڈر بھی ہلاک ہوئے ہیں جس میں علاقائی کمانڈر اور کمیٹی کے سینیئر ارکان شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ لاشوں کے پاس سے کئی اے کے 47 بندوقیں اور گولیاں ملی ہیں جو ماؤ نوازوں نے پولیس سے چھینی تھیں۔
ترتیا پرستوتی کمیٹی یعنی ( ٹی پی سی) نے سنہ دو ہزار دو میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ( ماؤسٹ) سے الگ ہوکر ایک نیا گروپ بنا لیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ٹی پی سی کا الزام تھا کہ سی پی آئي میں ایک خاص ذات کا دبدبہ ہے اس لیے اس نے جو الگ گروپ تشکیل دیا ہے اس میں قبائلی اور نچلی ذات کے لوگ بھی شامل ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ اس ماہ کے اوائل میں سی پی آئی نے ٹی پی سی پر حملہ کیا تھا اور اسی کا بدلہ لینے کے لیے اس نے یہ کارروائي کی۔







